تحریر: کریتیکا شرما
امریکہ اور ہندوستان کے درمیان مضبوط دفاعی تعاون دونوں ممالک کے درمیان بہتر فوجی ہم آہنگی کے لیے جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی خاطر اسٹارٹ اپ کمپنیوں کو متحرک کر رہا ہے۔اِنڈس۔ ایکس پہل کے ذریعہ ایئر بوٹِکس اور اے آئی کائروس(دونوں اِنڈس۔ ایکس جوائنٹ امپیکٹ چیلنج کی فاتحین کمپنیاں ہیں)زیرِ آب اعلیٰ مواصلاتی تکنیک کو ترقی دے رہی ہیں تاکہ بحریہ کی آپسی ہم آہنگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان کی تیار کردہ ٹیکنالوجی مختلف ممالک کی آبدوزوں، بحری جہازوں اور خود مختار زیرآب گاڑیوں کو بلا رکاوٹ ترسیل کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
۲۰۲۳ء میں شروع کیا جانے والا انڈیا۔یونائیٹیڈ اسٹیٹس ڈفینس ایکسلریشن ایکو سسٹم (اِنڈس۔ایکس )امریکی اور ہندوستانی دفاعی کمپنیوں، اسٹارٹ اپس، انکیوبیٹرس، ایکسلریٹرس، سرمایہ کاروں اور یونیورسٹیوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دے کر دونوں ملکوں کی افواج کے لیے اہم صلاحیتوں کو تیار کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ فروری ۲۰۲۵میں امریکہ اور ہندوستان کے رہنماؤں کے مشترکہ بیان میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اِنڈس۔ایکس پہل کے لیے اپنے عزم کو مزید مستحکم کیا۔ رہنماؤں نے اِنڈس انوویشن کا اعلان کیا، جو کامیاب اِنڈس۔ایکس پلیٹ فارم کی طرز پر ایک نیا اختراعی پُل ہے۔ یہ پہل امریکہ اور ہندوستان کی صنعتوں اور تعلیمی شراکت داریوں کو مزید آگے بڑھائے گی اور خلا، توانائی اور دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دے گی تاکہ اختراع میں امریکہ اور ہندوستان کی قیادت کو برقرار رکھا جا سکے اور اکیسویں صدی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
امریکی محکمہ دفاع کی دفاعی اختراعی اکائی اور ہندوستان کی ’’انوویشنس فار ڈیفنس ایکسیلنس‘‘ اسکیم نے جوائنٹ امپیکٹ چیلنج شروع کیا تاکہ جنگی ضروریات کے لیے جدید حل تلاش کیے جا سکیں۔ اے آئی کائروس اور ائیربوٹکس دونوں چیلنج کے پہلے ایڈیشن کے فاتح ہیں اور اپنے حل کو زیر سمندر مواصلات پر مرکوز کرتے ہیں۔
گڑگاؤں میں واقع ریسرچ اینڈ ڈیو لپمنٹ اسٹارٹ اپ اے آئی کائروس کی شریک بانی رشی مہروترا کہتی ہیں ’’مشترکہ کارروائیوں کے لیے آپسی ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔‘‘ زیرآب محفوظ مواصلات کو فعال کر کے یہ اسٹارٹ اپ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ہند۔بحرالکاہل خطےمیں زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں اور عالمی تعاون کے ذریعے سلامتی کو تقویت بخشتے ہیں۔
آبدوزوں کا پتہ لگانا
مہروترا بتاتی ہیں کہ اے آئی کائروس کے حل میں ’’پانی کے اندر موجود خطرات کا پتہ لگانے کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر دونوں‘‘ شامل ہیں۔ ’’اس طرح کی ٹیکنالوجی میں کلیدی جز ایک رسیور (یعنی سگنلس کو حاصل کرنے اور سمجھنے کے لیے) ہے۔ ہم بہتر پوزیشن میں ہیں کیونکہ ہم نے اپنا رسیور خود تیار کیا ہے۔‘‘
کمپنی کا زیرِ آب مواصلاتی نظام مختلف ممالک کی آبدوزوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے مواصلات کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ خاص طور پر کواڈ ممالک یعنی امریکہ، ہندوستان، جاپان اور آسٹریلیا کے لیے اہم ہے۔ مہروترا کہتی ہیں ’’بنیادی مقصد ان ممالک کے درمیان آپسی ہم آہنگی کو یقینی بنانا تھا تاکہ آبدوزیں (خطرات کے بارے میں) ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں۔ ہماری ٹیکنالوجی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مختلف بحری افواج مل کر زیادہ مؤثر طریقے سے کام کریں جو ہند۔بحرالکاہل کے خطے میں سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔‘‘
سمندر کی غیر متوقع نوعیت زیرآب دفاع کو خاص طور پر دشوار گزار بناتی ہے۔ اے آئی کائروس کا حل انتہائی خاموش آبدوزوں کا پتہ لگا کر ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مدد کرتا ہے، جن کا بصورت دیگر پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ مہروترا کہتی ہیں ’’ٹرانسمیٹر کسی بھی شکل کی حرکت پذیر چیز کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پانی کے اندر مختلف لہریں بھیج کر وہ ایک سگنل پیدا کرتے ہیں جسے ہمارا آلہ دریافت کر سکتا ہے۔ اگر ہم اس لہر کا پتہ لگا سکتے ہیں، تو ہم اس کی وسعت، سگنل اور مقدار کے بارے میں جان سکتے ہیں ۔ میرا اے وی ایس اس ہدف کی فریکوئنسی کا پتہ لگا سکتا ہے، جو بحر ہند کے کسی دشمن ملک کی آبدوز ہو سکتی ہے۔‘‘
مہروترا نے اس بات کو اجاگر کیا کہ کس طرح اِنڈس۔ایکس نے زیرآب مواصلاتی ٹیکنالوجی کو تیار کرنے اور اسے تعینات کرنے کے لیے بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا۔ وہ کہتی ہیں ’’یہ ہمارے جیسے اسٹارٹ اپس کے لیے دفاعی شعبے میں ہائی ٹیک حل لانے کا ایک شاندار موقع ہے۔‘‘
زیر سمندر ترسیل
ایئر بوٹکس، جسے راجیش گاندھی نے قائم کیا، زیرِ آب مواصلاتی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے جو آبدوزوں، بحری جہازوں اور خود مختار زیرِ آب گاڑیوں کو مشکل حالات میں بھی بغیر کسی رکاوٹ کے آپس میں رابطہ کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ اس اسٹارٹ اپ کا مقصد آبدوزوں، بحری جہازوں اور خود مختار زیرِ آب گاڑیوں کے درمیان بلا تعطل مواصلات کے ذریعے بحری افواج کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنانا ہے۔
گاندھی کہتے ہیں ’’ہماری ٹیکنالوجی یہ یقینی بناتی ہے کہ آبدوزیں اور بحری جہاز مؤثر طریقے سے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں، یہاں تک کہ سب سے مشکل زیرِ آب ماحول میں بھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’ٹیم نے اندرونِ خانہ ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئر دونوں تیار کیے ہیں اور ایسا نظام بنایا ہے جو سینسرس، ایمپلیفائرس اور ڈیٹاحصول کے اجزاء کو آپس میں مربوط کرتا ہے۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں ’’ہم نے سب کچھ خود ڈیزائن کیا ہے اور اپنے الگورِدم کی جانچ ہم اپنے سمیولیشن(کسی عمل، نظام اور حقیقی صورت حال نقل کرنا تاکہ اس کا مطالعہ کیا جاسکے کہ مخصوص حالات میں یہ کس طرح کام کرتا ہے) کے ذریعے کر رہے ہیں۔‘‘ ہندوستانی بحریہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے مراحل مکمل ہونے کے بعد اس کا جائزہ لے گی۔
قومی سلامتی کی ترجیحات میں زیرآب دفاع شامل ہے۔ ایئر بوٹکس کا مواصلاتی آلہ انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کی صلاحیتوں کو بہتر بنا کر امریکی دفاعی نظام کو مضبوط کرے گا۔ گاندھی بتاتے ہیں ’’چونکہ ہم نے یہ اندرون خانہ ڈیزائن کیا ہے، ہمارے پاس اسے مختلف پلیٹ فارموں بشمول آبدوزوں اور خود مختار زیرآب گاڑیوں کے لیے ہم آہنگ کرنے کی لچک موجود ہے۔‘‘
گاندھی کہتے ہیں ’’ہمارا آلہ صوتی لہروں کے ذریعے انکرپٹڈ سگنلس (رمز بند اشارے)کی ترسیل کر کے زیرآب محفوظ ترسیل ممکن بناتا ہے۔ خرابی کی درستگی کی تکنیک اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مداخلت کے باوجود پیغامات درست طریقے سے موصول ہوں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ عالمی بازار میں چند کمپنیاں ہی ایسی ٹیکنالوجی فراہم کرتی ہیں اور فی الحال ہندوستان کے پاس اس شعبے میں اپنی کوئی مصنوعات نہیں ہے۔
گاندھی کہتے ہیں ’’پانی کے اندر موثر مواصلات کے مسئلے کو امریکہ اور ہندوستان دونوں نے تسلیم کیا ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہمارا حل دونوں ممالک کے دفاعی نظام کو مضبوط کرے گا۔‘‘ یہ پروجیکٹ ہندوستانی اور امریکی اسٹارٹ اپ کمپنیوں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع فراہم کرتا ہے، جس سے وہ ایک دوسرے کی طاقتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں ’’مل کر کام کرنے سے ہمیں عالمی معیار کی مصنوعات تیار کرنے اور عالمی پلیٹ فارم پر اپنی اختراعات کی نمائش میں مدد ملے گی۔‘‘
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس اردو
کوریا کی سیونگ سویون کو 5-0 سے شکست دے کر سیمی فائنل میں داخل ہونے…
ندھی تیواری سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیس بک پر…
وزیر اعظم مودی سمیت لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و…
شرومنی اکالی دل (امرتسر) کے قائم مقام صدر ایمان سنگھ مان نے کہا کہ وہ…
شریئس ائیر کی کپتانی میں بھارتی ٹیم اب یکم اکتوبر کو دوسرا سیمی فائنل مقابلہ…
۔اس معاملے میں بس کی نگرانی کے انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے۔ بتایا گیا…