ٹاٹا گروپ کی ٹریڈنگ اور ڈسٹری بیوشن کمپنی ٹاٹا انٹرنیشنل (TIL) اس سال دسمبر میں 800 کروڑ روپے کے بانڈ کی ادائیگی کا سامنا ہے جس سے مالی لاگت میں اضافہ اور لیکویڈیٹی پر خطرے کے مسائل درپیش ہیں۔ اگر کمپنی وقت پر ادائیگی نہیں کر پاتی تو ان بانڈز پر سود کی شرح 9.1 فیصد سے بڑھ کر 12.1 فیصد ہو جائے گی یعنی تین فیصد کا بڑا اضافہ، جو کمپنی کی فنانسنگ لاگت میں نمایاں اضافہ اور کیش فلو پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
بانڈز کی تفصیل اور مالی پس منظر
یہ نان کنورٹیبل ڈیبینچرز (NCDs) دسمبر 2022 میں پرانے بانڈز کی ری فنانسنگ کے لیے جاری کیے گئے تھے جن میں تین سالہ ’’فرسٹ آپشنل کال ڈیٹ‘‘ رکھی گئی تھی۔ اگرچہ یہ بانڈز ’پرپیچوئل‘ نوعیت کے ہیں، لیکن سخت کوپن ری سیٹ انہیں عملاً لازمی ریڈمشن بنا دیتا ہے۔ مالی سال 2024 میں TIL نے تقریباً 28,000 کروڑ روپے کی آمدنی درج کی، مگر آپریٹنگ مارجن صرف 1 فیصد رہا۔ ستمبر 2024 تک کمپنی کا خالص قرض 4,100 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا۔ مالی سال 2025 میں ٹرن اوور بڑھ کر 32,000 کروڑ روپے تک پہنچا، لیکن زیادہ قرض، زرمبادلہ کے نقصانات اور کمزور کارکردگی کی وجہ سے کمپنی کو 477 کروڑ روپے کا خالص نقصان اٹھانا پڑا۔
ممکنہ خطرات اور مالی دباؤ
ٹاٹا انٹرنیشنل کا کل قرض (پرپیچوئل انسٹرومنٹس سمیت) 5,000 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ اگر بانڈز کی ادائیگی یا رول اوور میں تاخیر ہوتی ہے تو سالانہ سودی اخراجات میں تقریباً 24 کروڑ روپے کا اضافہ ہوگا، جس سے کمپنی کی لیکویڈیٹی مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
ٹاٹا سنز کی مدد اور ٹرسٹس میں اختلافات
امکان ہے کہ کمپنی بانڈز کی ری فنانسنگ کرے یا ٹاٹا سنز سے مدد حاصل کرے، جس نے پہلے ہی 1,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی منظوری دی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ ٹاٹا ٹرسٹس کے اندر جاری اختلافات کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ 9 اکتوبر کو منی کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق 11 ستمبر کے ٹرسٹس بورڈ اجلاس میں کئی ٹرسٹیز نے اس سرمایہ کاری پراعتراض کیا کہ آیا یہ ٹاٹا سنز کے آرٹیکل 121A کے تحت ٹرسٹس کی پیشگی منظوری کے بغیر ممکن ہے یا نہیں۔ اسی اجلاس میں وجے سنگھ (سابق ڈیفنس سکریٹری) کی ٹاٹا سنز کے نومنی ڈائریکٹر کے طور پر دوبارہ تقرری پر بھی اختلاف سامنے آیا۔
حکمت عملی پر سوال اور طویل المدتی لائحہ عمل
اگست میں ہونے والے ٹاٹا سنز بورڈ اجلاس میں ڈائریکٹر ہریش منوانی نے نشاندہی کی کہ TIL کو طویل مدتی وژن کی ضرورت ہے، ورنہ یہ کمپنی ’’صرف وقتی اور موقع پرست‘‘ کردار میں رہ جائے گی۔ چیئرمین این چندر شیکھرن نے کہا کہ اگرچہ سرمایہ کاری وقتی راحت دے سکتی ہے لیکن TIL کو ساختی چیلنجز کا سامنا ہے جس کے لیے 3,000 کروڑ روپے تک کی اضافی مدد درکار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ستمبر 2026 تک مکمل جائزے اور ایک سال کے اندر عبوری تشخیص کی سفارش کی۔
ٹاٹا ٹرسٹس کے اندر بڑھتے اختلافات نمایاں
ان تمام پیش رفتوں نے ٹاٹا ٹرسٹس کے اندر بڑھتے اختلافات کو نمایاں کردیا ہے ایک گروپ گورننس میں سخت نگرانی چاہتا ہے جبکہ دوسرا مرکزی سطح پر تیز فیصلہ سازی کے حق میں ہے۔ اسی دوران ٹاٹا انٹرنیشنل کو دسمبر میں اپنے 800 کروڑ روپے کے بانڈ بحران سے نکلنے کے لیے عملی مالی منصوبہ تیار کرنا ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…