قومی

MT Aqua Titan: مغربی ایشیا کشیدگی کے درمیان توانائی سپلائی پر خدشات، روس سے تیل لانے والا ٹینکر ہندوستان پہنچ گیا، منگلورو ساحل کے قریب لنگر انداز

منگلورو: روسی خام تیل سے لدا ٹینکر ’’ایم ٹی ایکوا ٹائٹن‘‘ جسے مینگلور ریفائنری اینڈ پیٹروکیمیکلز لمیٹڈ نے چارٹر کیا ہے اتوار کے روز ہندوستان پہنچ گیا۔ یہ ٹینکر اس وقت بحیرۂ عرب میں منگلورو ساحل سے تقریباً 10 ناٹیکل میل کے فاصلے پر لنگر انداز ہے۔ اس کی آمد ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔

عالمی منڈیوں پر کشیدگی کے اثرات

مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازع اور خاص طور پر آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے باعث تیل اور گیس کی عالمی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں روسی تیل بردار جہاز کی ہندوستان آمد کو توانائی تحفظ کے لیے اہم پیش رفت مانا جا رہا ہے۔ اسی روز امریکہ کی ریاست ٹیکساس سے مائع پیٹرولیم گیس (LPG) لے کر آنے والا ایک اور کارگو جہاز بھی نیو منگلورو بندرگاہ پہنچا، جس سے سپلائی میں مزید استحکام کی امید ہے۔

حکومتی اقدامات اور بندرگاہ سہولتیں

وزارت جہاز رانی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ نیو منگلورو پورٹ پر خام تیل اور ایل پی جی سے متعلق تمام کارگو چارجز 14 مارچ سے 31 مارچ تک معاف کر دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد توانائی کی درآمد کو آسان اور کم لاگت بنانا ہے۔ حکام کے مطابق ملک کی کسی بھی بندرگاہ پر اس وقت بھیڑ یا رکاوٹ کی کوئی اطلاع نہیں ہے، جس سے سپلائی چین معمول کے مطابق چل رہی ہے۔

خلیجی خطے میں ہندوستانی جہاز محفوظ

وزارت کے خصوصی سکریٹری راجیش کمار سنہا نے بتایا کہ خلیج فارس میں موجود ہندوستان کے 22 جہاز اور 611 ملاح مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کسی بھی بحری حادثے کی اطلاع نہیں ملی اور حکومت مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اسی دوران ہندوستانی پرچم بردار آئل ٹینکر ’’جگ لادکی‘‘ اڈانی پورٹس مندرا (گجرات) پہنچ چکا ہے، جس سے توانائی ذخائر میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے قبل ’’ایم ٹی شیوالک‘‘ اور ’’ایم ٹی نندا دیوی‘‘ نامی ایل پی جی جہاز بھی آبنائے ہرمز عبور کر کے کامیابی سے ہندوستان پہنچ چکے ہیں، جنہوں نے تقریباً 92,000 میٹرک ٹن گیس کی ترسیل کی۔

توانائی تحفظ پر بڑھتی توجہ

ماہرین کے مطابق، مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے چوتھے ہفتے میں داخل ہونے کے بعد ہندوستان جیسے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کے لیے سپلائی کا تسلسل برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔  حکومت کی جانب سے بندرگاہی سہولتوں میں نرمی، متبادل سپلائی لائنز اور مسلسل نگرانی جیسے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک توانائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Jamiat Himayat-ul-Islam Dissolved: جمعیت حمایت الاسلام کی اتر پردیش کمیٹی تحلیل، نئی کمیٹی اور ضلعی صدور کے اعلان کا انتظار

قومی صدر قاری ابرار جمال نے 19 اکتوبر کو پوری ریاستی کمیٹی تحلیل کردی؛ سابق…

1 hour ago

Bird Strike on Air India Express Flight: بنگلورو جانے والی ایئر انڈیا ایکسپریس کی پرواز سے ٹکرایا پرندہ، طیارے میں سوار تھے 148 مسافر

ایئر انڈیا ایکسپریس نے بھی دمام، جدہ اور ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی 20…

3 hours ago

RSS Sthapana Divas: آرایس ایس کے یومِ تاسیس پر وزیر اعظم مودی نے دی مبارک باد

وزیر اعظم نے مزید لکھا کہ قومی سویم سیوک سنگھ نے خدمت، ملک کی تعمیر…

3 hours ago