قومی

Tamil Nadu Vijay CM: چار بار راج بھون کی دوڑ، پانچ جماعتوں کی حمایت اور چھٹے دن وجے کی حکومت بننے کی کہانی…

4 مئی کو تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آئے۔ 234 نشستوں والی اسمبلی میں ٹی وی کے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری اور 108 سیٹیں حاصل کیں۔ تاہم حکومت بنانے کے لیے 118 نشستوں کی ضرورت تھی۔ وجے نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی، لیکن آئینی ضابطوں کے تحت انہیں ایک سیٹ چھوڑنی ہوگی۔ دوسری جانب ڈی ایم کے کو 59 اور اے آئی اے ڈی ایم کے کو 47 نشستیں حاصل ہوئیں۔

کانگریس کی پہلی حمایت

5 مئی کو وجے نے کانگریس سے حمایت طلب کی۔ دیر رات کانگریس نے ڈی ایم کے کا ساتھ چھوڑ کر وجے کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ کانگریس کے پاس 5 اراکین اسمبلی ہیں اور یہ حمایت وجے کے لیے ابتدائی راحت ثابت ہوئی۔

گورنر سے مسلسل ملاقاتیں

6 مئی کو وجے پہلی بار راج بھون پہنچے اور گورنر راجندر وشواناتھ آرلیکر سے ملاقات کی۔ انہوں نے حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا، لیکن مطلوبہ اکثریت پوری نہ ہونے کے باعث گورنر نے اجازت نہیں دی۔ اگلے دن یعنی 7 مئی کو وجے نے دوبارہ گورنر سے ملاقات کی، مگر صورتحال جوں کی توں رہی۔

سی پی آئی اور سی پی آئی(ایم) کا ساتھ

8 مئی کو دو، دو نشستوں والی سی پی آئی اور سی پی آئی(ایم) نے وجے کی حمایت کا اعلان کیا۔ اس کے بعد وجے نے تیسری بار گورنر سے ملاقات کی، تاہم اکثریت کا ہندسہ اب بھی مکمل نہیں ہو سکا تھا۔

وی سی کے اور آئی یو ایم ایل کی حمایت

9 مئی کو وی سی کے اور آئی یو ایم ایل نے بھی وجے کی ٹی وی کے کو حمایت دینے کا فیصلہ کیا۔ دونوں جماعتوں کے پاس دو، دو اراکین اسمبلی ہیں۔ اس حمایت کے بعد وجے کے پاس مجموعی طور پر 120 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہو گئی۔ چوتھی بار گورنر سے ملاقات کر کے وجے نے حمایت کے خطوط پیش کیے اور حکومت بنانے کا دعویٰ دوبارہ پیش کیا۔

پانچ جماعتوں کا اتحاد

ٹی وی کے کو کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی(ایم)، وی سی کے اور آئی یو ایم ایل کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ اس اتحاد کے ذریعے وجے نے اکثریت کا جادوئی ہندسہ عبور کر لیا۔ اب ان کے پاس 120 اراکین اسمبلی کی حمایت موجود ہے، جبکہ حکومت بنانے کے لیے 118 نشستیں درکار تھیں۔

حلف برداری میں تاخیر

وجے 7 مئی کو ہی وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے والے تھے۔ انہوں نے گورنر کو خط لکھ کر صبح 11:30 بجے حلف برداری تقریب منعقد کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن اکثریت نہ ہونے کے باعث تقریب ملتوی کر دی گئی۔ اس کے بعد 9 مئی کو نئی تاریخ طے ہوئی، مگر مطلوبہ حمایت مکمل نہ ہونے کے سبب حلف برداری دوبارہ مؤخر ہو گئی۔

آخرکار چھٹے دن حلف

اب وجے کے پاس اکثریت سے زیادہ اراکین کی حمایت موجود ہے۔ اتوار یعنی 10 مئی کو وجے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گے۔ انتخابی نتائج آنے کے چھٹے دن وجے تمل ناڈو کے نئے وزیر اعلیٰ بن جائیں گے۔

آگے کی راہ

حلف برداری کے بعد وجے کو اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنی ہوگی۔ چونکہ ان کے پاس 120 اراکین اسمبلی کی حمایت ہے، اس لیے یہ عمل ان کے لیے آسان مانا جا رہا ہے۔ وجے کی یہ کامیابی تمل ناڈو کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز سمجھی جا رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

8 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

8 hours ago