قومی

وزیراعلیٰ بننے سے پہلے نہیں چاہئے سیکورٹی، تمل ناڈو میں حلف برداری پرتعطل کے درمیان ٹی وی کے سربراہ وجے نے واپس بھیج دیں پولیس کی گاڑیاں

تمل ناڈومیں غیرمتوقع انتخابی نتائج کے بعد نئی حکومت کی تشکیل پرتعطل برقرارہے۔ اداکاروجے کی نوخیزپارٹی، ٹی وی کے نے ریاست میں سب سے بڑی پارٹی بن کرابھرکر سب کوحیران کردیا، لیکن حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ سیاسی قیاس آرائیوں کے درمیان تھلاپتی وجے آج گورنرسے ملاقات کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے کسی قسم کی سیکورٹی قبول کرنے سے انکارکردیا ہے۔

ٹی وی کے سربراہ وجے نے آج جمعرات کو کہا کہ انہوں نے حلف برداری تقریب تک، پروٹوکول کے تحت تمل ناڈوکے وزیراعلیٰ کوملنے والے پولیس قافلے کی گاڑیوں کو لینے سے انکار کر دیا ہے۔ جبکہ ایک پولیس افسر نے تصدیق کی کہ اسمبلی الیکشن کے نتائج کے اعلان کے بعد ”پروٹوکول کے تحت“ انہیں دی گئی وزیراعلیٰ کے قافلے کی گاڑیاں واپس لوٹا دی گئی ہیں۔ حالانکہ اسے منسوخ نہیں کیا گیا ہے۔ افسرنے یہ بھی بتایا کہ حلف برداری تقریب کے لئے سبھی انتظامات پورے کرلئے گئے ہیں۔

پولیس قافلے کی گاڑیوں کو لوٹایا

دریں اثنا، تملگا ویٹی کزگم (ٹی وی کے) نے واضح کیا کہ پارٹی کے بانی وجے نے “خود درخواست کی تھی کہ پولیس قافلے کی گاڑیاں واپس کردی جائیں۔” ایک بیان میں، ٹی وی کے نے کہا، “وجے نے کہا کہ وہ صرف اس وقت باضابطہ طورپروزیراعلیٰ سطح کی سیکورٹی قبول کریں گے، جب وہ واضح مینڈیٹ کے ساتھ حکومت بنائیں گے۔” تمل ناڈومیں 4 مئی کے انتخابی نتائج کے بعد، جب ٹی وی کے نے 108 سیٹیں جیتیں، وجے کوان کے قافلے کے حصے کے طورپرچارگاڑیاں فراہم کی گئیں، لیکن اس نے ان کی واپسی کی درخواست کی اورگاڑیاں بعد میں ان کے گھرسے واپس لے لی گئیں۔ دریں اثنا، 6 مئی کو، جب وجے نے گورنرراجیندروشوناتھ آرلیکرسے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کرنے کے لیے ملاقات کی، تو پولس نے ان کی پنیوررہائش گاہ اورلوک بھون کے سامنے سیکورٹی تعینات کردی۔ تاہم وجے نے گورنرسے ملاقات کے لئے سرکاری گاڑی کا استعمال نہیں کیا۔

حلف برداری کے لئے اسٹیڈیم پہنچے حامی

دوسری طرف، اداکاروجے کے مداحوں کے درمیان یہ خبرپھیل گئی کہ وہ آج جمعرات کونہروانڈوراسٹیڈیم میں حلف لینے جا رہے ہیں، ایسے میں بڑی تعداد میں لوگ بسوں یا دیگرذرائع سے اسٹیڈیم پہنچ گئے، لیکن جب وہ وہاں پہنچے توانہیں دروازے بند ملے اوراہلکاروں کوایسے کسی پروگرام کے بارے میں کوئی جانکاری تھی۔ ریاست کے الگ الگ حصوں جیسے ارومبکّم اور کوئٹمبورسے آئے کئی حامیوں نے اسٹیڈیم احاطے کو بند پایا توانہیں زبردست مایوسی ہوئی۔ حلف برداری کوقریب سے دیکھنے کے لئے جلدی پہنچنے کے بعد جب ایسا کوئی پروگرام ہی طے نہیں ہونے سے مایوس ایک خاتون حامی، چارولتا نے کہا، ”ہم بہت خوشی کے ساتھ آئے تھے، یہ سوچ کرکہ آج وہ وزیراعلیٰ بنیں گے، لیکن یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔ دروازے بند ہیں۔ یہ بہت مایوس کن ہے۔“

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Retail Inflation: مہنگائی نے بڑھائی لوگوں کی پریشانی، خوردہ مہنگائی دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچی

ستمبر 2026 میں خوردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 5.54 فیصد ہوگئی۔ سبزیوں سمیت کھانے…

15 minutes ago

Delhi Metro Station Closure: دہلی میٹرو اسٹیشن بند کرنے کا فیصلہ کون کرتا ہے؟ جانیں پولیس، ڈی ایم آر سی اور قانون کی مکمل کارروائی

دہلی میں احتجاج اور مارچ کے دوران میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی دروازے اچانک…

53 minutes ago