قومی

Tamil Nadu Vijay Government Formation: تھلاپتی وجے نے سونپا 112 اراکین اسمبلی کی حمایت والا خط، گورنرنے کہا-118 اراکین اسمبلی کے ساتھ دوبارہ آئیے

تمل ناڈو اسمبلی الیکشن کے نتائج نے سبھی کو حیران کردیا ہے۔ 4 مئی کوآئے نتیجے میں تھلاپتی وجے کی پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن کرابھری ہے، لیکن وہ اکثریت سے دور ہے۔ الیکشن کے نتائج میں تملگا ویٹری کزگم  (ٹی وی کے) نے سب سے زیادہ سیٹیں جیتی ہیں۔ پہلے ہی الیکشن میں ٹی وی کے نے 108 سیٹیں جیتی ہیں۔ فی الحال اس الیکشن میں کسی کو بھی واضح اکثریت نہیں ملی ہے۔

تمل ناڈو میں حکومت کی تشکیل پر تعطل برقرار

دوسری جانب، ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی تشکیل سے متعلق تعطل برقرار ہے۔ گورنر نے ٹی وی کے کے سربراہ تھلاپتی وجے کے حکومت بنانے کے دعوے پر بھی پوری طرح سے اطمینان کا اظہارنہیں کیا ہے۔ گورنر نے ٹی وی کے سربراہ وجے کے حکومت بنانے کے دعوے پرقانونی رائے مانگی ہے۔ آپ کو بتا دیں کہ تھلاپتی وجے نے 112 اراکین اسمبلی کی حمایت والا خط گورنر کو سونپا تھا۔ حالانکہ اکثریت نہ ہونے پرگورنرنے ان سے کہا کہ 118 اراکین اسمبلی کے ساتھ دوبارہ آئیے۔

کانگریس نے حمایت دینے کا اعلان کیا

وہیں کانگریس کی حمایت کے باوجود ٹی وی کے اکثریت سے بھی کچھ سیٹ دور ہے۔ وہیں، وی سی کے سمیت دیگرپارٹیوں کا رخ ابھی واضح نہیں ہے۔ ایسی حالت میں وجے باقی پارٹیوں کی حمایت والے خط کا انتظارکرسکتے ہیں۔ اس سے جمعرات کو ہونے والی حلف برداری تقریب میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ دراصل، پہلے خبرآئی تھی کہ 7 مئی کو جوزف وجے وزیراعلیٰ عہدے کا حلف لے سکتے ہیں۔ ایم کے اسٹالن نے وزیراعلیٰ عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ اسٹالن اپنے گڑھ کولا تھور میں ٹی وی کے امیدوار سے الیکشن ہارگئے ہیں۔ ان کی پارٹی ڈی ایم کے نے اس الیکشن میں 59 سیٹیں جیتی ہیں۔ جبکہ اے آئی ڈی ایم کے اتحاد نے 47 سیٹیں جیتی ہیں۔ دوسری جانب، کانگریس کو پانچ سیٹیں ملی ہیں جبکہ پی ایم کے نے 4 سیٹوں پرجیت حاصل کی ہے۔

تمل ناڈو کی سیاست میں بڑے الٹ پھیرکی قیاس آرائیاں

ریاست میں حکومت سازی کے درمیان سیاسی حلقوں میں یہ بحث زورپکڑرہی ہے کہ ریاست کی دو بڑی حریف جماعتیں، ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے، ممکنہ طور پر ایک اتحاد قائم کر سکتی ہیں تاکہ ٹی وی کے کو اقتدارمیں آنے سے روکا جا سکے۔ اگریہ اتحاد حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو اسے تمل ناڈو کی سیاست میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت تصور کیا جائے گا، کیونکہ دونوں جماعتیں ماضی میں ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہی ہیں۔ اب سیاسی منظرنامہ اس بات پرمرکوز ہے کہ آیا ٹی وی کے مطلوبہ حمایت حاصل کر پائے گی یا مخالف جماعتیں مل کر کوئی نیا اتحاد تشکیل دیں گی۔ ریاست کی 234 رکنی اسمبلی میں ٹی وی کے کی موجودہ پوزیشن اسے سب سے بڑی جماعت تو بناتی ہے، مگر واضح اکثریت نہ ہونے کے باعث حکومت سازی میں مشکلات درپیش ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وجے نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، لیکن ایک نشست چھوڑنے کے بعد پارٹی کی مجموعی طاقت 107 تک محدود ہو سکتی ہے، جس سے اکثریت کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Todays Weather: موسم نے بدلا رخ! کئی علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان، آئی ایم ڈی نے جاری کی پیش گوئی

مانسون کی سرگرمیاں برقرار، بعض علاقوں میں بارش اور گرج چمک کا امکان؛ دہلی میں…

2 hours ago

Delhi IIC Bazm-e-Sahafat: ’اردو مسلمانوں کی نہیں، ہندوستان کی زبان ہے‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین کا اظہارِ خیال

بھارت ایکسپریس اردو کے تیسرے نیشنل کانکلیو میں اردو، صحافت اور نئی ٹیکنالوجی پر گفتگو،…

3 hours ago