نئی دہلی :تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اور تملگا ویٹری کزگم (ٹی وی کے) کے سربراہ سی جوزف وجے اور ان کی اہلیہ سنگیتا کے درمیان جاری طلاق کے مقدمے کی سماعت ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی ہے۔ چینگلپٹو فیملی کورٹ میں پیر کے روز اس معاملے کی سماعت مقرر تھی، قابل ذکر بات یہ ہے کہ دونوں فریقین کی عدم موجودگی کے باعث عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 7 اگست تک ملتوی کر دی۔عدالتی کارروائی کے دوران نہ تو وزیر اعلیٰ وجے عدالت میں پیش ہوئے اور نہ ہی ان کی اہلیہ سنگیتا نے سماعت میں شرکت کی۔ البتہ دونوں جانب سے مقرر وکلا عدالت میں موجود رہے اور انہوں نے اپنے مؤکلین کی نمائندگی کرتے ہوئے دلائل پیش کیے۔ فریقین کی غیر حاضری کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے مزید سماعت کے لیے نئی تاریخ مقرر کر دی۔یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس مقدمے کی سماعت ملتوی ہوئی ہو۔ اس سے قبل بھی کئی بار وجے اور سنگیتا ذاتی طور پر عدالت میں پیش نہیں ہوئے تھے۔ دونوں فریقین نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ انہیں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سماعت میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہونے کی وجہ سے وجے کو سخت سیکورٹی پروٹوکول اور سرکاری ذمہ داریوں کا سامنا رہتا ہے، جس کے باعث ان کی ذاتی حاضری ممکن نہیں ہو پاتی۔
اس سے قبل عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد مقدمے کی سماعت 15 جون تک ملتوی کر دی تھی،قابل ذکر بات یہ ہےکہ پیر کو بھی فریقین کی عدم موجودگی کے باعث کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ اب اس حساس اور زیربحث مقدمے کی اگلی سماعت 7 اگست کو ہوگی۔یاد رہے کہ سنگیتا نے دسمبر 2025 میں چینگلپٹو فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔ اپنی درخواست میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ میاں بیوی کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ازدواجی تعلقات کو برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے عدالت سے شادی ختم کرنے کے ساتھ ساتھ نان و نفقہ (گزارہ بھتہ) کی بھی درخواست کی تھی۔سی جوزف وجے جنوبی بھارت کی فلمی صنعت کے مقبول ترین اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔
سیاست میں قدم رکھنے کے بعد انہوں نے تملگا ویٹری کزگم کی بنیاد رکھی اور بعد ازاں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بنے۔ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد ان کی سیاسی اور عوامی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث ان کی نجی زندگی سے متعلق معاملات بھی عوام اور میڈیا کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وجے کی سیاسی حیثیت اور عوامی مقبولیت کے پیش نظر اس مقدمے کی ہر سماعت پر میڈیا اور عوام کی گہری نظر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلاق کے اس کیس سے متعلق ہر عدالتی پیش رفت ریاستی سیاست اور عوامی حلقوں میں موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کے تحت جموں و کشمیر سے…
اتر پردیش میں پی ایم سوریہ گھر یوجنا کے تحت 8.76 لاکھ سے زائد روف…
ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا بڑا احتجاج، 300 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اعلان کا سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی نے کیا…
راہل گاندھی کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ انہیں وزیر اعظم…
ملک کی سب سے بڑی نجی ایئرپورٹ آپریٹر کمپنی اڈانی ایئرپورٹس ہولڈنگز لمیٹڈ (AAHL) نے…