ممبئی حملوں کا ملزم تہوّر رانا اس وقت قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کی تحویل میں ہے۔ این آئی اے نے رانا کو نئی دہلی واقع سی جی او کمپلیکس دفتر میں تحفظ کے سخت انتظامات کے ساتھ رکھا ہے۔
’پی ٹی آئی‘ کے مطابق تہوّر رانا کے آس پاس کثیر تعداد میں سیکوریٹی اہلکار تعینات ہیں جو 24 گھنٹے اس پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ حالانکہ اس درمیان ایک خبر سامنےآئی ہے کہ تہور رانا نے این آئی اے کی تحویل میں 3 چیزوں کا مطالبہ کیا ہے۔ ’ہندوستان ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق تہور رانا نے جیل میں قرآن کا مطالبہ کیا تھا۔ ایسے میں انہیں قرآن کی ایک کاپی دے دی گئی ہے۔ قرآن کے علاوہ رانا نے قلم اور کاغذ مانگا تھا۔ اس کے تینوں مطالبات پورے کر دیئے گئے ہیں۔ اس دوران تہور رانا کی ہر حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کہ کہیں قلم وغیرہ سے وہ خود کو کوئی نقصان نہ پہنچا لے۔ ان تین چیزوں کے علاوہ ابھی تک اس نے کچھ اور نہیں مانگا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ جیل میں تہور رانا کو باقی قیدیوں کی طرح ہی رکھا گیا ہے، اسے الگ سے کوئی خاص سہولت مہیا نہیں کی گئی ہے۔ تہور رانا پانچ وقت کی نماز ادا کرتا ہے۔ جیل میں اسے روز دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ عدالت کے حکم کے بعد تہور رانا کو ہر دوسرے دن اس کے وکیل سے ملنے کی اجازت ہے۔ اسے وہ سبھی سہولتیں مل رہی ہیں جو حراست میں موجود باقی قیدیوں کو دی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ سے واپسی کے بعد این آئی اے نے جمعہ کی صبح تہور رانا کو دہلی کی عدالت میں پیش کیا تھا۔ اس دسوران عدالت نےا سے 18 دنوں کے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے۔
تہوررانا کون ہے؟
تہوررانا ڈاکٹر تھا لیکن اس کا کام اس کے پیشے سے بالکل مختلف تھا۔ وہ پاکستانی شہری ہے جو جنون اور لالچ میں اس قدر پھنس گیا کہ اب ساری زندگی جیل میں گزارے گا۔ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) ممبئی حملوں میں ملوث تہور رانا کو بھارت لانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ اس سے امریکی جیل میں بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ لیکن یہ ایک محدود تفتیش تھی۔ اس تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ رانا پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ساہیوال میں پیدا ہوا۔ بچپن سے رانا سیکورٹی سروسز میں شامل ہونا چاہتا تھا لیکن والد کی ضد کی وجہ سے اسے ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنی پڑی۔ اس نے میڈیسن کی تعلیم مکمل کی اور پاکستان فوج کی میڈیکل کور میں شمولیت اختیار کی۔
آئی ایس آئی نے اسے کینیڈا بھیجا
اپنی سروس کے دوران، رانا نے پاکستان کے سینئر فوجی افسران اور پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی، آئی ایس آئی کے اہلکاروں سے رابطے قائم کیے۔ اس کی میڈیکل ڈگری دیکھ کر پاکستانی خفیہ ایجنسی نے اسے کہیں اور استعمال کرنے کا فیصلہ کیا تو رانا 1998 میں فوج چھوڑ کر کینیڈا چلا گیا۔
ہیڈلی کے لیے کام کرنا شروع کیا
کینیڈا میں قیام کے دوران رانا پاکستانی خفیہ ایجنسی سے مسلسل رابطے میں رہا اور ان کے مشورے پر اس نے وہاں امیگریشن سروسز فراہم کرنے کا اپنا کاروبار شروع کیا۔ ڈاکٹر ہونے کے ناطے اسے کینیڈا کی شہریت بھی مل گئی۔ کینیڈا میں کئی لوگوں سے رابطہ کرنے کے بعد رانا نے پاکستانی خفیہ ایجنسی کے پاس امریکہ جانے کی خواہش ظاہر کی جس کے بعد اسے شکاگو بھیج دیا گیا اور اس نے شکاگو میں اپنا دفتر بھی بنا لیا۔ یہیں اس کی ملاقات اس کیس کے ایک اور اہم ملزم ہیڈلی سے ہوئی تھی۔ ہیڈلی ایک امریکی شہری بھی ہے۔
تہور اپنی بیوی کے ساتھ ہندوستان آیا تھا
رانا نام کا ڈاکٹر تھا لیکن اس میں ڈاکٹر جیسی انسانیت بالکل نہیں تھی اور اس کے سارے کام انسانیت کو شرمسار کرنے والے تھے۔ اس کی توجہ ڈاکٹری سے زیادہ تباہی اور تخریب کاری پر مرکوز تھی۔ اس کے علاوہ وہ اپنی پوری زندگی پرتعیش طریقے سے گزارنا چاہتا تھا اور اس کے لیے وہ مسلسل پیسے جمع کرتا رہا۔ رانا اپنی اہلیہ سمراز رانا اختر کے ساتھ ہندوستان آیا تھا۔ دہلی کے علاوہ وہ اتر پردیش میں آگرہ، کیرالہ میں کوچی، گجرات میں احمد آباد اور ممبئی گیا تھا۔ رانا اگر ڈاکٹر بن کر زندگی گزارتا تو بہت اچھی زندگی گزار سکتا تھا لیکن جنون اور لالچ نے اسے ڈبو دیا اور اسے زندگی بھر کے لیے سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
چمپارن پشتے کے تین مقامات پر شگاف پڑنے سے بگہا میں سیلاب کی صورتحال سنگین،…
وزیر داخلہ امت شاہ کے پہنچنے سے پہلے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے…
وزیراعظم کی جانب سے شیئر کیا گیا یہ روایتی سنسکرت سبھاشیت لوگوں کو عمل اور…
کانگریس لیڈر نے نوجوان خواتین، خصوصاً جنریشن زیڈ سے بڑی تعداد میں احتجاج میں شامل…
نیرو ڈھانڈا نے کوالیفکیشن راؤنڈ میں 118 کے اسکور کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی…
واضح رہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی تقریر شروع ہوتے ہی کئی ممالک…