قومی

Swami Prasad Maurya met Rahul Gandhi: سوامی پرساد موریہ کی راہل گاندھی سے ملاقات، اپنی جنتا پارٹی کے ’انڈیا‘ اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست کی سیاست میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سابق کابینہ وزیر سوامی پرساد موریہ نے کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد موریہ نے اپنی پارٹی ’اپنی جنتا پارٹی‘ کے ’انڈیا‘ اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ موریہ نے کہا کہ ان کی پارٹی اب ’انڈیا‘ اتحاد کے ساتھ مل کر اتر پردیش اسمبلی انتخابات لڑے گی۔ تاہم اتحاد میں ان کی پارٹی کتنی نشستوں پر امیدوار اتارے گی اور نشستوں کی تقسیم کس طرح ہوگی، اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد کیا بولے موریہ؟

راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ اپنی جنتا پارٹی ’انڈیا‘ اتحاد کا حصہ ہوگی اور آئندہ کی حکمت عملی پر بعد میں بات چیت کی جائے گی۔ نشستوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر ابھی کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ اتحاد میں ان کی پارٹی کو کتنی نشستیں ملیں گی، اس کا فیصلہ آئندہ ہونے والی بات چیت کے بعد کیا جائے گا۔ موریہ نے اس دوران بی جے پی پر بھی تنقید کی اور عوام سے بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کی اپیل کی۔ انہوں نے اپنے مقصد کو ’بی جے پی ہٹاؤ، ملک بچاؤ اور آئین بچاؤ‘ قرار دیا۔

SC-ST، OBC اور اقلیتوں کے مسائل کو بتایا اہم

اتر پردیش کے سابق کابینہ وزیر نے راہل گاندھی سے اپنی ملاقات کے حوالے سے کہا کہ راہل گاندھی ملک بھر میں درج فہرست ذات، درج فہرست قبائل، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی آواز اٹھا رہے ہیں۔ موریہ کے مطابق ان کی پارٹی بھی اتر پردیش میں انہی طبقات سے متعلق مسائل پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں کی نظریاتی سمت ایک جیسی ہے، اسی لیے ان کی پارٹی نے ’انڈیا‘ اتحاد کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

کانگریس کو قومی سطح پر ’متبادل‘ قرار دیا

سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ قومی سطح پر کانگریس ہی ایک متبادل ہے، اسی وجہ سے ان کی پارٹی نے ’انڈیا‘ اتحاد کے ساتھ شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ راہل گاندھی سے یہ ملاقات صرف شروعات ہے اور مستقبل میں دیگر لیڈروں کے ساتھ بھی بات چیت ہوسکتی ہے۔ اتحاد کی انتخابی حکمت عملی بھی آئندہ ہونے والی گفتگو کے بعد طے کی جائے گی۔

کئی سیاسی جماعتوں میں رہ چکے ہیں موریہ

سوامی پرساد موریہ کا سیاسی سفر کئی جماعتوں سے وابستہ رہا ہے۔ وہ طویل عرصے تک بہوجن سماج پارٹی میں رہے اور مایاوتی حکومت میں وزیر کے ساتھ ساتھ اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داری بھی سنبھال چکے ہیں۔ اس کے بعد موریہ بی جے پی میں شامل ہوئے۔ 2017 میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وہ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت میں کابینہ وزیر بنے۔ بعد میں انہوں نے بی جے پی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی کا رخ کیا، لیکن وہاں بھی زیادہ عرصہ نہیں رہے۔ اختلافات کے بعد انہوں نے ایس پی سے استعفیٰ دے دیا اور اپنی الگ سیاسی جماعت قائم کرلی۔ موریہ کشی نگر کی پڑرونا اسمبلی نشست سے رکن اسمبلی بھی رہ چکے ہیں۔ اب اپنی جنتا پارٹی کے ’انڈیا‘ اتحاد میں شامل ہونے کے اعلان کے بعد اتر پردیش کی سیاست میں نشستوں کی تقسیم کو لے کر نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ موریہ کی پارٹی کو کتنی نشستیں ملیں گی اور کن حلقوں سے امیدوار میدان میں اتارے جائیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

CM Himanta Biswa Sarma: وزیر اعلیٰ سے ایک شخص نے مانگا آئی فون، ہمنتا بسوا سرما نے پہلے پوچھا ’پرانا یا نیا؟‘ پھر دے دیا بڑا جواب

ہمنتا بسوا سرما نے اس ملاقات کی ویڈیو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی ہے۔…

1 hour ago

Amit Shah Gopalak Conference: صرف دودھ بیچنا کافی نہیں! امت شاہ نے بتایا، مکھن، پنیر اور بایو گیس سے کیسے چمکے گی دیہی معیشت

بھوپال کے گوپالک کانفرنس میں مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے مویشی پالنے…

1 hour ago

India vs West Indies: روہت شرما کا ایک اور بڑا کارنامہ، سچن کے بعد یہ مقام حاصل کرنے والے دوسرے بھارتی بنے

دوسرے ون ڈے مقابلے میں روہت کی کارکردگی شاندار رہی تھی۔ انہوں نے گوہاٹی میں…

2 hours ago