جیوتی مٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو لے کر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ راہل گاندھی اب ہندو ازم کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے اسے عوامی طور پر ہندو مذہب سے باہر کرنے کا اعلان کیا ہے۔بدری ناتھ کے شنکراچاریہ آشرم میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سوامی اویمکتیشورانند نے کہا کہ منوسمرتی کو لے کر پارلیمنٹ میں راہل گاندھی کے بیان سے سناتن دھرم کے تمام پیروکار دکھی ہیں۔ شنکراچاریہ نے کہا کہ راہل گاندھی پارلیمنٹ میں کہتے ہیں کہ ریپسٹ کو بچانے کا فارمولہ آئین میں نہیں بلکہ آپ کی کتاب یعنی منوسمرتی میں لکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کو تین ماہ قبل ایک نوٹس بھیجا گیا تھا جس میں ان سے یہ وضاحت کرنے کو کہا گیا تھا کہ انہوں نے جو کہا ہے وہ منوسمرتی میں کہاں لکھا ہے؟ لیکن اتنا وقت گزرنے کے بعد بھی نہ تو راہل گاندھی نے کوئی جواب دیا اور نہ ہی معافی مانگی۔شنکراچاریہ نے کہاکہ جب کوئی شخص ہندو صحیفوں کی مسلسل توہین کرتا ہے اور وضاحت دینے سے گریز کرتا ہے، تو اسے ہندو مذہب میں جگہ نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے واضح کیا کہ اب راہل گاندھی کی مندروں میں مخالفت کی جانی چاہئے اور پجاریوں سے اپیل کی کہ وہ ان کو پوجا نہ کرنے دیں کیونکہ وہ اب خود کو ہندو کہنے کا حقدار نہیں ہیں۔
شنکراچاریہ کے اس بیان سے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ راہل گاندھی اس سے قبل بھی اپنے بیانات کی وجہ سے تنازعات میں گھرے رہے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے جب انہیں کسی مذہبی تنظیم کی جانب سے عوامی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اب دیکھنا ہوگا کہ سوامی کے اس اعلان کا آنے والے دنوں میں کیا اثر ہوتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے حکام کوسخت نگرانی برقراررکھنے کی بھی ہدایت…
ادت راج نے کہا کہ جنگِ آزادی میں 61 ہزار مسلمانوں اور 8 ہزار سکھوں…
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ آیوروید…
عدالت عالیہ نے آلودگی کے لیے صرف پرالی جلانے کو ذمہ دار ٹھہرانے پر سوال…
اتراکھنڈ یومِ تاسیس کی تقریب میں کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے…
سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…