نئی دہلی، 15 ستمبر: سپریم کورٹ نے اتر پردیش ودھان پریشد سکریٹریٹ میں تیسرے اور چوتھے درجے کی بھرتی کے معاملے میں ہائی کورٹ کے ان احکامات کو منسوخ کر دیا ہے جن میں سی بی آئی انکوائری کے احکامات دیے گئے تھے۔ عدالت نے واضح کیا کہ صرف شبہ یا اندیشے کی بنیاد پر سی بی آئی انکوائری کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔
معاملے میں 18 ستمبر 2023 اور 3 اکتوبر 2023 کو ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے بھرتی کے تنازعے کو پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن (PIL) میں بدل کر سی بی آئی انکوائری کا حکم دے دیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے کہا کہ اس بھرتی معاملے میں کسی طرح کا ٹھوس مجرمانہ الزام سامنے نہیں آیا اور ودھان پریشد کو جواب داخل کرنے کا موقع دیے بغیر انکوائری کا حکم جاری کرنا مناسب نہیں تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ صرف شبہ یا خدشے کی بنیاد پر سی بی آئی انکوائری کا حکم نہیں دیا جا سکتا، یہ صرف خاص حالات اور ٹھوس وجوہات میں ممکن ہے۔ 2019کے قواعد میں ترمیم کبھی چیلنج کے دائرے میں نہیں آئی تھی اور کسی قانون سازی پر مجرمانہ نوعیت کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے زیریں عدالتوں کو بھی ہدایت دی کہ وہ بغیر ٹھوس وجوہات کے فوجداری انکوائری شروع کرنے کے احکامات نہ دیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی اتر پردیش ودھان پریشد سکریٹریٹ کی بھرتی کے معاملے میں سی بی آئی انکوائری کا حکم کالعدم ہو گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر…
ڈمپل یادو نے اپنے بیان میں کہا کہ اب دیکھنا ہے کہ اتر پردیش کے…
انکیتا بھنڈاری 19 سالہ لڑکی تھی، جو اتراکھنڈ میں رشی کیش کے قریب ایک ہوٹل…
ایشیائی کھیل 2026 کی تمغوں کی فہرست میں چین نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ چین…
اس سے قبل گزشتہ ماہ 26 ستمبر کو مہاراشٹر کے پال گھر ضلع میں بھی…
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 16 اکتوبر کو دہلی کے کناٹ پلیس…