نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے مجرمانہ توہین عدالت کا قصوروار قرار دیے جانے اور چھ ماہ قید کی سزا کے خلاف یوٹیوبر گلشن پاہوجا کی عرضی پر سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے فوری راحت دینے سے انکار کرتے ہوئے عرضی گزار کو راحت کے لیے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی۔ سماعت کے دوران بنچ نے عرضی گزار کے دلائل پر سخت موقف اختیار کیا۔ چیف جسٹس نے کہا ’’ہمیں آپ سے ہمدردی ہے، لیکن آپ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے عدالتی افسران پر بدعنوانی کے الزامات لگا رہے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ایسے الزامات کا کیا اثر ہوتا ہے؟ ایک عدالتی افسر کا پورا کیریئر داؤ پر لگ جاتا ہے اور اسے اس طرح کے الزامات کے ساتھ زندگی گزارنی پڑتی ہے۔‘‘
’اس مرحلے پر فوری راحت دینا مناسب نہیں‘
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ فی الحال معاملے کے میرٹ پر غور نہیں کر رہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ عرضی گزار کو پہلے ہی توہین عدالت کا قصوروار قرار دیا جا چکا ہے اور وہ خودسپردگی کرکے جیل جا چکے ہیں۔ ایسی صورت میں اس مرحلے پر فوری راحت دینا مناسب نہیں ہوگا۔ بنچ نے کہا کہ اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے ان کی سزا معطل کرنے کی درخواست منظور کی تھی، تاہم خودسپردگی کی مدت میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد انہوں نے خودسپردگی کر دی۔ لہٰذا اب سزا معطلی سے متعلق کسی بھی راحت کے لیے انہیں دہلی ہائی کورٹ سے ہی رجوع کرنا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ پاہوجا نے ’کنٹیمپٹ آف کورٹس ایکٹ‘ کے تحت اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کی ہے، لیکن عرضی میں موجود تکنیکی خامیوں کو دور نہ کیے جانے کے سبب اسے ابھی سماعت کے لیے فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکا ہے۔ عدالت نے فی الحال معاملے کے دیگر پہلوؤں پر غور کرنے سے انکار کرتے ہوئے عرضی گزار کو مناسب قانونی راستہ اختیار کرنے کی ہدایت دی۔
’فائٹ 4 جوڈیشل ریفارمز‘ نام سے یوٹیوب چینل چلاتے ہیں پاہوجا
واضح رہے کہ گلشن پاہوجا ’فائٹ 4 جوڈیشل ریفارمز‘ کے نام سے ایک یوٹیوب چینل چلاتے ہیں۔ الزام تھا کہ ان کے چینل پر اپ لوڈ کیے گئے کچھ ویڈیوز میں عدلیہ اور بعض عدالتی افسران کے خلاف توہین آمیز تبصرے کیے گئے تھے۔ تین عدالتی افسران نے ان ویڈیوز کے سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھی اور مجرمانہ توہین عدالت کی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ الزام تھا کہ پاہوجا نے اپنے ویڈیوز میں عدالتی افسران کے کام کرنے کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے تھے۔ ان کے چینل پر دو وکیلوں کے انٹرویو بھی نشر کیے گئے تھے، جن میں مبینہ طور پر عدلیہ کے خلاف قابل اعتراض باتیں کہی گئی تھیں۔
دونوں وکیلوں نے غیر مشروط معافی مانگی تھی
بعد میں دونوں وکیلوں نے غیر مشروط معافی مانگ لی تھی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے ویڈیو کو آن لائن اپ لوڈ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی اور نہ ہی انہیں ویڈیو کے ساتھ لگائے گئے قابل اعتراض عنوان یا بینر کے بارے میں معلومات تھیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے ان کی معافی قبول کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی ختم کر دی تھی۔ دوسری جانب گلشن پاہوجا نے اپنے تبصروں کو عدالتی اصلاحات کے لیے چلائی جانے والی مہم کا حصہ قرار دیا اور عدالتوں کے کام کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے اپنے بیانات کا دفاع کیا۔ سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اگر ایسے معاملات میں سختی نہیں برتی گئی تو مستقبل میں عدلیہ کے خلاف اس طرح کے تبصروں کو فروغ مل سکتا ہے۔ اسی بنیاد پر ہائی کورٹ نے پاہوجا کو مجرمانہ توہین عدالت کا قصوروار قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…
انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (IICC) میں منعقدہ ’ہندی میری جان‘ پروگرام میں بھارت ایکسپریس کے…
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…
بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ٹیم کو مبارکباد دیتے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…