ملک بھر کے رہائشی علاقوں میں گھروں اور جائیدادوں کا قواعد کے خلاف تجارتی استعمال اب نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے بلدیاتی اداروں اور ترقیاتی اتھارٹیز کو قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی جائیدادوں کی نشاندہی کرکے کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس کے بعد دہلی، پٹنہ اور لکھنؤ سمیت کئی شہروں میں جانچ اور سروے کا عمل تیز ہونے کا امکان ہے۔
سپریم کورٹ کی بنچ نے تشویش ظاہر کی
جسٹس احسان الدین امان اللہ اور جسٹس آر۔ مہادیون کی بنچ نے کہا کہ عمارتوں کی تعمیر اور ان کے استعمال سے متعلق قوانین کو نظر انداز کرنے کا براہِ راست اثر لوگوں کی سلامتی پر پڑ سکتا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے دہلی کے ایک ہوٹل اور لکھنؤ کے ایک کوچنگ سینٹر میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعات کا بھی حوالہ دیا۔عدالت نے واضح کیا کہ عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانا اور قوانین پر عمل کرانا متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔
دہلی میں سروے کی سست رفتار پر ناراضی
دہلی کے لاجپت نگر اور سروجنی نگر جیسے علاقوں میں قواعد کی خلاف ورزی اور حفاظتی خامیوں کا پتہ لگانے کے لیے سروے کرایا جانا تھا۔ عدالت نے اس عمل میں تاخیر پر ناراضی کا اظہار کیا۔ اس سے قبل آئی آئی ٹی دہلی کے دو پروفیسروں اور دیگر ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے کر عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کی جانچ کرانے کی ہدایت دی گئی تھی۔
پٹنہ میں 26,746 جائیدادوں کا انکشاف
پٹنہ میں صورتحال زیادہ سنگین نظر آئی۔ پٹنہ میونسپل کارپوریشن کے حلف نامے کے مطابق سروے کے دوران 26,746 ایسی جائیدادیں سامنے آئیں جہاں رہائشی جگہوں کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔اتنی بڑی تعداد سامنے آنے پر سپریم کورٹ نے حکام کے نگرانی کے نظام پر سوال اٹھائے۔ عدالت نے پٹنہ کے سابق میونسپل کمشنر پرشار کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرتے ہوئے پوچھا کہ خلاف ورزیوں کے باوجود مناسب کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔
لکھنؤ میں 51 جائیدادوں کی نشاندہی
لکھنؤ میں بھی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے عدالت کو بتایا کہ جانچ کے دوران 51 جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
صرف بلڈوزر نہیں، ذمہ داری بھی طے ہوگی
عدالت کا موقف صرف غیر قانونی تعمیرات گرانے یا جائیدادوں کو سیل کرنے تک محدود نہیں ہے۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ قوانین کی خلاف ورزیاں برسوں تک متعلقہ حکام کی نظروں سے کیسے اوجھل رہیں۔ایسے معاملات میں ذمہ دار افسران کی جواب دہی بھی طے کی جا سکتی ہے۔ رہائشی عمارتوں میں بڑے پیمانے پر تجارتی سرگرمیوں کی وجہ سے بھیڑ، پارکنگ، فائر سیفٹی اور ہنگامی اخراج جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔سپریم کورٹ کا پیغام واضح ہے کہ تجارتی سرگرمیوں کے نام پر عوام کی جان و مال کی سلامتی سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سیوا تیرتھ میں وزرا کے لیے چنتن شِور شروع کیا…
ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی قانونی معاونت اور…
میرٹھ کے لِساڑی گیٹ علاقے میں شراب کی دکان پر مقررہ قیمت سے زیادہ رقم…
اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بہوجن سماج پارٹی میں بڑا تنظیمی ردوبدل، مایاوتی نے…
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…