سپریم کورٹ میں وقف ایکٹ کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت مکمل ہو گئی ہے۔ جمعرات کو مسلم فریق کی طرف سے وکیل کپل سبل نے اپنے دلائل پیش کئے۔ اس سے قبل سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مرکزی حکومت کی جانب سے اپنے خیالات پیش کیے تھے۔ سپریم کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیاہے۔سپریم کورٹ نے جمعرات کو وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کی آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر عبوری راحت پر اپنا حکم محفوظ کر لیا۔ قبل ازیں مسلم فریق کی طرف سے کپل سبل نے سالیسٹر جنرل کے دلائل کا جواب دیا۔ انہوں نے اس ایکٹ کی دفعات پر دلیل دی جس میں کہا گیا ہے کہ وقف املاک سے متعلق کسی تنازعہ کی صورت میں اس کی وقف کی حیثیت تحقیقات مکمل ہونے تک زیر التوا رہے گی۔
سبل نے کہا کہ یہ دفعات غیر آئینی ہے۔ تحقیقات کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ اس میں 6 ماہ یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ سکتا ہے، تب تک مسلم کمیونٹی اس جائیداد پر اپنا حق کھو دے گی۔ جائیداد کے وقف ہونے یا نہ ہونے کے تعین کے لیے کوئی قطعی عمل نہیں ہے۔ فیصلہ حکومت کو کرنا ہے، طے ہونے کے بعد ریونیو ریکارڈ میں بھی تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔ تشخیص کا طریقہ کار متعین نہیں ہے۔ یہ مکمل طور پر من مانی ہے۔
مرکزی حکومت کی جانب سے سالیسٹر جنرل نے بدھ کو سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ وقف ایک اسلامی تصور ہے اور اس پر کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ 1923، 1954، 1995 کے قوانین میں ایک شق موجود تھی کہ کوئی بھی شخص وقف املاک کو رجسٹر کروا سکتا ہے۔ اس کے لیے کسی دستاویز کی ضرورت نہیں تھی۔ 2025 ایکٹ میں وقف رجسٹریشن کے لیے دستاویزات کی فراہمی کی گئی ہے۔ ایک غلط بیانیہ بنایا جا رہا ہے کہ جس وقف کی جائیداد کے کاغذات نہیں ہیں وہ چھین لیے جائیں گے۔حالانکہ سپریم کورٹ نے سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ فیصلہ صادر کب ہوگا اس کے بارے میں کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے البتہ مانا جارہا ہے کہ پیر 26مئی کو فیصلہ سنایا جاسکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں رجیجو نے احتجاج کی آڑ میں…
چین مسلسل 23 ماہ سے سونے کی خریداری کر رہا ہے، جس سے اس کے…
سینٹرل دہلی کے ڈی سی پی روہت راجبیر سنگھ نے کہا کہ کانگریس کے نمائندوں…
دہلی پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے سی جے پی (CJP) کے بانی ابھجیت…
یونیورسٹی کے 10 فیکلٹیز کے طلبہ کو مجموعی طور پر 2,320 ڈگریاں دی گئیں، جن…
ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…