نئی دہلی: تہلکہ میگزین کے سابق ایڈیٹراورسینئرصحافی ترون تیج پال کوسپریم کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے آج جمعہ (6 نومبر، 2026) کوسال 2013 کے ریپ کیس میں انہیں سنائی گئی 10 سال کی سزا پرروک لگانے سے انکارکردیا۔ جسٹس ایم ایم سندریش اورجسٹس پرسنّا بی ورالے کی بنچ نے کہا کہ وہ اس سزا پرروک لگانے کے حق میں نہیں ہیں۔ ترون تیج پال کی سزا پرروک لگانے سے متعلق درخواست پرسماعت کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ یہ ایسا معاملہ ہے، جس میں سزا پرروک لگائی جانی چاہئے۔ ترون تیج پال کی جانب سے پیش ہوئے سینئروکیل کپل سبل نے معاملے کے شواہد اوردیگر دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ پوری کہانی ہی جھوٹی ہے۔
ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ پلٹ دیا تھا
وہیں گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ توسزا بڑھانے کا ہے۔ اس سے پہلے 6 اگست کوبامبے ہائی کورٹ نے ترون تیج پال کوریپ کا قصوروارقراردیتے ہوئے 10 سال کی سخت قید کی سزا سنائی تھی۔ ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے اس فیصلے کوپلٹ دیا تھا، جس میں پانچ سال پہلے ترون تیج پال کوبری کردیا گیا تھا۔ سال 2013 میں گوا میں میگزین کی جانب سے منعقد ایک پروگرام کے دوران ترون تیج پال کوایک ہوٹل کی لفٹ میں اپنی جونیئرساتھی کے ساتھ ریپ کا قصوروارپایا گیا تھا۔ 62 سالہ صحافی کا دعویٰ ہے کہ وہ سیاسی انتقام کا شکارہوئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے سرینڈر کرنے کا دیا تھا حکم
ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچا۔ 25 اگست کوسپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سابق ایڈیٹرکو10 سال کی سزا کاٹنے کے لیے تین ہفتے کے اندرسرینڈرکرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے سرینڈرسے چھوٹ مانگنے والی ان کی درخواست بھی خارج کردی تھی۔ عدالت کے سخت رویے کے بعد ترون تیج پال کوٹرائل کورٹ کے سامنے سرینڈرکرنا پڑا تھا۔
کئی دفعات کے تحت قصوروار قرار دیئے گئے
ترون تیج پال کوانڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) کی کئی دفعات کے تحت ریپ کا قصوروارقراردیا گیا تھا، جن میں دفعہ 376 (2) (ایف)، 354 (اے) اور 354 (بی) شامل ہیں۔ دفعہ 376 (2) (ایف) کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا عمرقید ہے۔ 20 اگست کو ترون تیج پال نے اس معاملے میں انہیں قصوروارقراردینے والے ہائی کورٹ کے حکم کوچیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ وہیں گوا حکومت نے بھی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر کے ترون تیج پال کی سزا بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ عمر قید کی سزا کے لائق ہے۔
ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے رویے پر بھی اٹھائے سوال
سپریم کورٹ میں دائراپنی درخواست میں گوا حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ ہائی کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا، ترون تیج پال کے جرم کی نوعیت اورسنگینی کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ اپنے 81 صفحات پرمشتمل فیصلے میں ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے 2021 کے حکم کوغلط اورنامناسب قراردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے اس تصورکوقبول کرلیا تھا کہ جنسی ہراسانی کی شکایت کرنے والی خاتون کوایک ’’مثالی متاثرہ‘‘ ہونا چاہئے اورقابلِ اعتبارنظرآنے کے لئے اسے ایک خاص اندازمیں برتاؤکرنا چاہئے۔ ہائی کورٹ نے اس بات پربھی سخت اعتراض کیا تھا کہ دفاع کی جانب سے متاثرہ خاتون کوہی کٹہرے میں کھڑا کردیا گیا اوراس کی نجی زندگی پر سوال اٹھائے گئے۔ عدالت نے اس بات پربھی حیرت ظاہرکی تھی کہ ٹرائل کورٹ اس دوران خاموش رہا اوردفاع کوجرح کے دوران متاثرہ خاتون کوپریشان کرنے اوراس کی تذلیل کرنے کی مکمل چھوٹ دے دی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ آیوروید…
عدالت عالیہ نے آلودگی کے لیے صرف پرالی جلانے کو ذمہ دار ٹھہرانے پر سوال…
اتراکھنڈ یومِ تاسیس کی تقریب میں کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے…
سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…
سرائے بنجارہ اسٹیشن کے قریب پیش آیا واقعہ، تین ڈبے بری طرح متاثر اور چوتھے…
نشی کانت دوبے نے اپنے بیان میں جواہرلال نہرو کی پالیسیوں پربھی سنگین سوال اٹھائے۔…