سپریم کورٹ نے آج دہلی کی ایک عدالت میں ایک خاتون عدالتی افسر کے ساتھ بدسلوکی کے مجرم ٹھہرائے گئے ایک وکیل کی عرضی کو مسترد کر دیا۔ سپریم کورٹ نے قید کی سزا کو 6 ماہ تک کم کرنے سے انکار کر دیا اور زبانی طور پر کہا کہ ’’آج دہلی میں ہمارے افسران کی اکثریت خواتین کی ہے، اگر کوئی اس طرح بچ نکلے گاتو وہ کام نہیں کر پائیں گی۔ ان کی حالت کے بارے میں سوچیے۔‘‘
جسٹس پی کے مشرا اور جسٹس منموہن کی بنچ دہلی ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف ایک درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جس نے اس وکیل کی سزا کو برقرار رکھا تھا، جس نے ٹرائل کورٹ کے اندر چالان کے معاملے میں ایک خاتون جج سے گالی گلوچ کی تھی۔ خاتون جج کی جانب سے کیس کی سماعت ملتوی کرنے کے بعد وکیل نے گالی گلوچ اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
خواتین جوڈیشیل افسران کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا ضروری: عدالت
درخواست پر سماعت کرتے ہوئے جسٹس منموہن نے زبانی طور پر تبصرہ کیا کہ ’’ذرا معائنہ رپورٹ دیکھیں، جو زبان استعمال کی گئی، وہ ہم کھلی عدالت میں بول بھی نہیں سکتے۔‘‘ جسٹس منموہن نے مزید کہا کہ اگر اس طرح کے معاملات کے خلاف سخت رویہ اختیار نہیں کیا گیا تو خواتین جوڈیشل افسران کے لیے محفوظ کام کے ماحول کو یقینی نہیں بنایا جا سکے گا۔
واضح رہے کہ وکیل سنجے راٹھور کو ٹرائل کورٹ نے مجرم ٹھہرایا تھا اور تعزیرات ہند کی دفعہ 509 (عورت کی توہین کے ارادے) کے تحت جرم کے لیے 18 ماہ قید، دفعہ 189 (سرکاری ملازم کو چوٹ پہنچانا) کے تحت 3 ماہ اور دفعہ 35 کے تحت مزید تین ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ ٹرائل کورٹ نے ہدایت کی تھی کہ یہ سزائیں ایک کے بعد ایک چلیں گی، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر دو سال کی سزا ہوگی۔ تاہم بعد میں ہائی کورٹ نے کہا کہ سزا ایک ساتھ چلے گی نہ کہ ایک کے بعد ایک، اس طرح سزا دو سال سے کم ہو کر 18 ماہ ہو گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو
یورپی فٹ بال کی اعلیٰ ترین تنظیم یوئیفا نے منگل کے روز سی ڈی ٹینیریفے…
پمپری چنچوڑ: مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے آج پمپری چنچوڑ پولیس کی کارکردگی…
اتر پردیش کے مرادآباد میں اجولا یوجنا کی مستحق خواتین نے منگل کے روز مفت…
مندر کے پجاریوں پرخواتین کے ساتھ زیادتی سے متعلق مبینہ بیان کی وجہ سے تنازعہ…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو سے…
ملکی موجودہ سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے یہ بھی کہا کہ…