قومی

SC Gives 24 Hours Deadline to ECI: سپریم کورٹ آف انڈیا کا الیکشن کمیشن آف انڈیا کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم، مغربی بنگال میں کل تک ووٹر لسٹ شائع کرنے کا حکم

سپریم کورٹ آف انڈیا نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو سخت ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ کل یعنی منگل تک ہر حال میں شائع کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر تمام دستاویزات پر ڈیجیٹل دستخط مکمل نہ بھی ہوں تو بھی فہرست جاری کی جائے۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے کلکتہ ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ تین سابق ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی آج ہی تشکیل دی جائے۔مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور آئندہ چند دنوں میں ووٹنگ متوقع ہے۔ انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ یعنی فہرستِ رائے دہندگان کو اپڈیٹ کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران نئے نام شامل کیے جاتے ہیں اور جو افراد انتقال کر چکے ہوں یا دوسری جگہ منتقل ہو گئے ہوں، ان کے نام فہرست سے ہٹا دیے جاتے ہیں۔ اس بار خصوصی نظرثانی مہم (اسپیشل انٹینسیو ریویژن) کے تحت لاکھوں افراد کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کر دیے گئے۔ جن لوگوں کو لگا کہ ان کا نام غلطی سے ہٹا دیا گیا ہے، انہوں نے اعتراض درج کرایا اور مطالبہ کیا کہ ان کے نام دوبارہ فہرست میں شامل کیے جائیں۔ اعتراضات کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ 59 لاکھ سے زائد افراد نے دعوے اور اعتراضات درج کرائے، جن سب پر سماعت کے بعد فیصلہ کرنا ضروری تھا۔

پیر کو عدالت میں کیا ہوا؟

سپریم کورٹ آف انڈیا کو بتایا گیا کہ اب بھی تقریباً 26 ہزار معاملات ایسے ہیں جن پر فیصلہ نہیں ہو سکا ہے۔ ووٹر لسٹ جاری کرنے کی آخری تاریخ پیر مقرر تھی، لیکن اس وقت تک کام مکمل نہیں ہو پایا۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے واضح طور پر ہدایت دی کہ کل یعنی منگل تک حتمی ووٹر لسٹ ہر حال میں شائع کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کچھ دستاویزات پر ڈیجیٹل دستخط نہ بھی ہوں تو بھی فہرست کو روکا نہ جائے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے عدالت کو بتایا کہ باقی تمام معاملات آج دن ختم ہونے تک نمٹا دیے جائیں گے۔

ٹریبونل کا کیا معاملہ ہے؟

جن افراد کے نام فہرست سے ہٹا دیے گئے اور ان کے اعتراضات بھی مسترد ہو گئے، وہ اپیل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے 19 اپیلیٹ ٹریبونل تشکیل دیے گئے ہیں، یعنی 19 خصوصی عدالتیں جو صرف انہی معاملات کی سماعت کریں گی۔ لیکن ان 19 ٹریبونلز میں سماعت کا کوئی یکساں طریقہ کار موجود نہیں تھا۔ ہر جگہ مختلف انداز میں کارروائی ہو رہی تھی، جس سے لوگوں کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں اور کہاں جائیں۔اس پر سپریم کورٹ آف انڈیا نے کلکتہ ہائی کورٹ کو ہدایت دی کہ تین سابق چیف جسٹس یا سینئر ججوں پر مشتمل ایک کمیٹی آج ہی تشکیل دی جائے، جو کل تک یکساں اصول و ضوابط طے کرے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ٹریبونلز کو تمام دستاویزات کا دوبارہ جائزہ لینا چاہیے تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور سب کو اپنی بات رکھنے کا مکمل موقع مل سکے۔

پوری بات کیا ہے؟

سپریم کورٹ آف انڈیا نے کہا کہ معاملہ لاکھوں لوگوں کے ووٹ کے حق سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کسی کا نام غلطی سے ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا گیا تو وہ ووٹ ڈالنے سے محروم ہو سکتا ہے، جبکہ انتخابات قریب ہیں۔اسی وجہ سے عدالت نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ اب مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے ہدایت دی کہ منگل تک ووٹر لسٹ جاری کی جائے، قواعد و ضوابط طے کیے جائیں اور لوگوں کو ان کا حق دیا جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

نیشنل کانفرنس میں زبردست اختلاف! 18 اراکین اسمبلی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو لکھا خط، کابینہ میں تبدیلی سمیت کیا یہ بڑا مطالبہ

یادداشت پر دستخط کرنے والے اراکین اسمبلی نے عوامی توقعات اور حکومت کے درمیان بڑھتی…

30 minutes ago

India vs new Zealand: ایڈن پارک میں نیوزی لینڈ کا ریکارڈ بھارت کے لیے تشویش کا باعث، 11 میچوں میں صرف 4 فتوحات

بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا ون ڈے 4 نومبر کو آکلینڈ کے ایڈن…

49 minutes ago

دہلی-این سی آر میں گرین پٹاخے جلانے کی اجازت، سپریم کورٹ نے دیوالی پر دو دن کی چھوٹ دی

جسٹس ایم ایم سندریش اورجسٹس پرسنّا بی ورالے کی بنچ نے 29 اکتوبر کے اپنے…

56 minutes ago

Priti Adani on PM Modi Varanasi: پریتی اڈانی نے وزیر اعظم مودی کی دوراندیش قیادت کی تعریف کی، بتایا کیسے بدلی کاشی کی تصویر؟

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ آج دنیا کے پاس…

59 minutes ago

Jhunjhunu Tragedy: وزیر اعظم مودی نے جھنجھنو حادثے پر کیا افسوس کا اظہارِ، کیسے پیش آیا اتنا بڑا حادثہ؟

وزیر اعظم دفتر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیر اعظم کا…

1 hour ago