قومی

Supreme Court judgment on UPSC reservation: یو پی ایس سی میں ریزرویشن پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، ایک بار کوٹہ کا فائدہ لیا تو ’جنرل‘ سیٹ نہیں ملے گی

اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا کوئی امیدوار جو ریزروڈ کیٹیگری سے تعلق رکھتا ہو، جنرل سیٹ پر نوکری حاصل کر سکتا ہے؟ عام طور پر اس کا جواب ’ہاں‘ سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن سپریم کورٹ کے ایک تازہ فیصلے نے اس پوری بحث کی سمت ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ اگر آپ نے امتحان کے کسی بھی مرحلے پر ریزرویشن کی سہولت یا رعایتی کٹ آف کا فائدہ اٹھایا ہے، تو آپ بعد میں جنرل کوٹے کی سیٹ پر اپنا حق نہیں جتا سکتے، چاہے آپ کی فائنل رینک جنرل امیدواروں سے بہتر ہی کیوں نہ ہو۔آئیے سادہ زبان میں سمجھتے ہیں کہ پورا معاملہ کیا ہے اور یہ فیصلہ لاکھوں UPSC امیدواروں کو کس طرح متاثر کرے گا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ کیا ہے؟

جسٹس جے۔ کے۔ مہیشوری اور جسٹس وجے بشنوئی پر مشتمل بنچ نے مرکزی حکومت کی ایک اپیل پر سماعت کرتے ہوئے یہ اہم فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ اگر کسی امیدوار نے UPSC امتحان کے کسی بھی مرحلے (جیسے پریلمس یا مینز) میں ریزروڈ کیٹیگری کے تحت دی جانے والی رعایت یا کم کٹ آف کا فائدہ لیا ہے، تو وہ بعد میں خود کو ’جنرل‘ امیدوار نہیں کہلا سکتا۔ سپریم کورٹ نے کرناٹک ہائی کورٹ کے اس پرانے فیصلے کو بھی منسوخ کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی ریزروڈ کیٹیگری کے امیدوار کے نمبر جنرل امیدوار سے زیادہ ہوں تو اسے جنرل سیٹ ملنی چاہیے۔ عدالت عظمیٰ نے اس تشریح کو قواعد کے خلاف قرار دیا۔

2013 کا امتحان اور دو امیدوار

یہ پورا تنازع سال 2013 کی انڈین فاریسٹ سروس (IFS) امتحان سے شروع ہوا۔ اس کیس کے دو مرکزی کردار تھے: جی۔ کرن  (ایس سی کیٹیگری)

انٹونی ایس۔ ماریئپا (جنرل کیٹیگری)

کہانی یہاں دلچسپ ہو جاتی ہے:

پریلمس امتحان: جنرل امیدواروں کے لیے کٹ آف 267 نمبر تھا، جبکہ ایس سی کے لیے 233۔ جی۔ کرن کو 247.18 نمبر ملے۔ چونکہ ان کے نمبر جنرل کٹ آف سے کم تھے، اس لیے وہ ایس سی کیٹیگری کے تحت کوالیفائی ہوئے۔ دوسری طرف انٹونی نے 270.68 نمبر حاصل کر کے جنرل کوٹے سے کامیابی حاصل کی۔

فائنل نتیجہ: جب حتمی نتیجہ آیا تو صورتِ حال بدل گئی۔ جی۔ کرن کی رینک 19ویں رہی جبکہ انٹونی کی 37ویں۔ یعنی فائنل مرحلے میں جی۔ کرن نے انٹونی کو پیچھے چھوڑ دیا۔

کیڈر الاٹمنٹ کا مسئلہ: تنازع اس وقت پیدا ہوا جب ہوم اسٹیٹ یعنی کرناٹک کیڈر الاٹمنٹ کی باری آئی۔ وہاں صرف ایک ’جنرل انسائیڈر‘ سیٹ خالی تھی اور ایس سی کے لیے کوئی نشست نہیں تھی۔ جی۔ کرن نے دلیل دی کہ ان کی رینک بہتر ہے، اس لیے جنرل سیٹ انہیں ملنی چاہیے۔ تاہم حکومت نے وہ سیٹ انٹونی کو دے دی اور جی۔ کرن کو تمل ناڈو کیڈر الاٹ کر دیا گیا۔

عدالت نے قواعد کی کیا تشریح کی؟

سپریم کورٹ نے 2013 کے امتحانی قواعد کے رول 14(ii) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی امیدوار نے شروعاتی مرحلے میں ریزرویشن کا فائدہ اٹھایا ہے، تو وہ جنرل معیار پر منتخب ہونے والا امیدوار نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ جی۔ کرن کو مین امتحان میں بیٹھنے کا موقع صرف اس لیے ملا کیونکہ انہوں نے ایس سی کوٹے کا فائدہ لیا۔ اگر وہ جنرل کیٹیگری میں ہوتے تو پریلمس میں ہی باہر ہو جاتے، کیونکہ ان کے نمبر جنرل کٹ آف سے کم تھے۔ اس لیے بعد میں زیادہ نمبر حاصل کر لینے سے ان کی کیٹیگری تبدیل نہیں ہو سکتی۔ وہ ریزروڈ کیٹیگری کے ہی امیدوار رہیں گے اور صرف اپنی ہی کیٹیگری کی نشستوں پر حق جتا سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

3 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

3 hours ago