بھارت ایکسپریس اردو-
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے لوجہاد اورغیرقانونی تبدیلی مذہب کے خلاف اترپردیش میں بنائے گئے متنازعہ قانون کوچیلنج کرنے والی ایک عرضی پرریاستی حکومت کونوٹس جاری کیا ہے۔ یہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب سے اس قانون پرسوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ عرضی لکھنؤ کی سماجی کارکن روپ ریکھا ورما نے دائرکی ہے۔
عرضی گزارنے اپنی درخواست میں دلیل دی ہے کہ یہ قانون مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے جوڑوں کوہراساں کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ روپ ریکھا ورما کا کہنا ہے کہ اس قانون کی آڑمیں کسی کوبھی آسانی سے تبدیلی مذہب کے الزام میں پھنسایا جا سکتا ہے، جس سے شخصی آزادی اورآئینی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
سپریم کورٹ میں ہوسکتی ہے تفصیلی سماعت
عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب تک معاملے کی سماعت مکمل نہیں ہوجاتی، تب تک اترپردیش حکومت کواس ایکٹ کے تحت درج معاملوں میں کوئی بھی کارروائی نہ کرنے کا حکم بھی سپریم کورٹ دے۔ عدالت عظمیٰ نے اس نئی عرضی کوپہلے سے ہی زیرالتوا اسی طرح کے معاملوں کے ساتھ جوڑدیا ہے۔ یہ اشارہ دیتا ہے کہ سپریم کورٹ اس موضوع پرتفصیلی سماعت کرسکتا ہے۔
اترپردیش میں کیا ہے موجودہ قانون؟
اترپردیش میں بی جے پی حکومت نے لوجہاد کے مبینہ واقعات کوروکنے کا حوالہ دیتے ہوئے ‘پرہیبیشن آف غیرقانونی تبدیلی مذہب ایکٹ’ 2020 نافذ کیا تھا۔ تاہم انسانی حقوق کے کارکنان اوربہت سے قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس قانون کواقلیتوں اوربین المذاہب جوڑوں کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ سب کی نظریں اس حساس معاملے پرسپریم کورٹ کی آگے کی کارروائی پرمرکوزہے۔
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…
سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…