قومی

Supreme Court Issues Notice: شریعت قانون کے خلاف عرضی پر سپریم کورٹ سخت، مرکز کو نوٹس جاری، چار ہفتوں میں جواب طلب

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مسلم پرسنل لا (شریعت) اپلیکیشن ایکٹ 1937 کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرنے والی ایک اہم عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے اور چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ عرضی میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ قانون مسلم خواتین کے وراثت، جائیداد اور ازدواجی حقوق میں امتیاز برتتا ہے اور انہیں مردوں کے مقابلے میں کم حقوق فراہم کرتا ہے۔ عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ ملک میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کے نہ ہونے کی وجہ سے شریعت اپلیکیشن ایکٹ 1937 نافذ العمل ہے، جس کے باعث لاکھوں مسلم خواتین کو انصاف سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت خواتین کو وراثت میں مردوں کے مقابلے میں آدھا یا اس سے بھی کم حصہ دیا جاتا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 14 کے تحت مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔

پرشانت بھوشن نے عدالت کو بتایا کہ اس پرانے قانون کی وجہ سے تقریباً ایک کروڑ مسلم خواتین کو جائیداد، وراثت اور شادی جیسے معاملات میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے استدلال کیا کہ اگر سپریم کورٹ اس قانون کو غیر آئینی قرار دیتی ہے تو اس سے بھارتی جانشینی قانون کی تشریح میں بھی تبدیلی ممکن ہو سکتی ہے، جہاں فی الحال یہ قانون مسلمانوں پر نافذ نہیں ہوتا۔ عرضی گزار کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم حصہ دینا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اسے آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت محفوظ مذہبی روایت بھی نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آزادی کے 78 سال بعد بھی اگر خواتین کو مساوی حقوق حاصل نہیں ہیں تو یہ ایک سنجیدہ آئینی مسئلہ ہے۔

عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وراثت اور جائیداد کے معاملات میں مسلم خواتین کے ساتھ ہونے والا یہ سلوک انہیں دوسرے درجے کا شہری بناتا ہے، جو کہ ایک جمہوری معاشرے کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس لیے اس قانون کے امتیازی دفعات کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے تاکہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر مزید غور کیا جا سکے۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ معاملہ نہ صرف پرسنل لا بلکہ بنیادی حقوق سے بھی جڑا ہوا ہے، جس کا براہ راست تعلق مساوات اور انصاف سے ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر عدالت اس قانون کے کچھ یا تمام حصوں کو غیر آئینی قرار دیتی ہے تو یہ مسلم خواتین کے حقوق کے لیے ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف قانونی نظام بلکہ سماجی ڈھانچے پر بھی مرتب ہوں گے۔ فی الحال عدالت نے مرکز کو چار ہفتوں کا وقت دیا ہے، جس کے بعد اس معاملے کی اگلی سماعت متوقع ہے۔ اس کیس پر ملک بھر میں گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ یہ ذاتی قوانین اور آئینی حقوق کے درمیان ایک اہم قانونی بحث بن چکا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Mirabai Chanu Silver: اب28 سال کا انتظار ختم! میرابائی چانو نے ایشین گیمز میں جیتا تاریخی سلور

ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…

7 hours ago

Pezeshkian Hits Back At Trump: ’ہم دہشت گرد نہیں، خود دہشت گردی کا شکار ہیں‘، یو این جی اے میں ایرانی صدر کا ٹرمپ پر جوابی حملہ

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…

8 hours ago

Gyanesh Kumar SIR Controversy: ’گیانیش کمار کو گرفتار کرو‘، ایس آئی آر تنازع کے درمیان سنجے راؤت کا بڑا مطالبہ

خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…

8 hours ago

CJP Noida School Visit: گریٹر نوئیڈا میں سی جے پی ترجمان سورَو داس کی مخالفت، اسکول کے معائنے پر گاؤں والوں نے روکا

گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…

9 hours ago

PM Modi Cabinet: ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کام آئے گا افسران کا تجربہ، پی ایم مودی کے نئے انتظامی فارمولوں نے کھینچی توجہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…

10 hours ago