سپریم کورٹ آف انڈیا۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: سپریم کورٹ میں وقف قانون کو چیلنج دینے والی 70 سے زیادہ عرضیوں پرسماعت ہونی تھی، لیکن ایک ساتھ اتنی عرضیوں پر سماعت کرنا عدالت کے لئے ممکن نہیں تھا۔ اس لئے عدالت نے درجنوں عرضیوں پرسماعت ہوئی۔ حالانکہ عدالت میں ایک دن میں یہ سماعت مکمل نہیں ہوئی اورآئندہ روز بھی اس پرسماعت ہوگی۔ مسلم فریق کی طرف سے بیشتردلیلیں سینئر وکیل اورراجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ کپل سبل اورابھیشیک منوسنگھوی نے دی۔ چیف جسٹس سنجیوکھنہ کی قیادت والی تین رکنی بینچ اس موضوع کو سن رہی ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ مسلم فریق کی طرف سے عدالت میں کس طرح کی دلیلیں دی گئیں۔
وقف قانون کوچیلنج دینے والوں میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسدالدین اویسی، کانگریس رکن پارلیمنٹ ڈاکٹرجاوید احمد اورعمران پرتاپ گڑھی، جمعیۃ علماء ہند (مولانا ارشد مدنی اورمولانا محمود مدنی)، سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمٰن برق، ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا، آرجے ڈی رکن پارلیمنٹ منوج جھا، عام آدمی پارٹی کے لیڈرامانت اللہ خان وغیرہ شامل ہیں۔ وقف قانون پرسپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک قانون کے نفاذ پرروک لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔ عدالت میں اس معاملے پرکل دوپہر2 بجے پھرسماعت ہوگی۔
پہلا- قانون کے خلاف دلیلیں پیش کرتے ہوئے سینئروکیل کپل سبل نے کہا کہ نئے قانون کے بعد اگرمیں اپنی زمین وقف کرنا چاہتا ہوں، تو مجھے یہ دکھانا ہوگا کہ میں 5 سالوں سے مذہب اسلام پرعمل کررہا ہوں۔ سوال ہے کہ اگرمیں مسلم خاندان میں پیدا ہوا ہوں تومیں ایسا کیوں کروں گا۔
دوسرا– کپل سبل نے کہا کہ نئے قانون کی دفعہ 3 (اے) (2) کے تحت خواتین کووقف الاولاد کی تشکیل سے خواتین کووراثت سے محروم نہیں کیا جا سکتا، جواس بارے میں کہنے والی ریاست ہے۔ اسلام میں مرنے کے بعد وراثت ملتی ہے لیکن اس قانون کے ذریعے حکومت اس سے پہلے بھی مداخلت کررہی ہے۔
تیسرا– کپل سبل نے کہا کہ حکومت اوروقف کے درمیان تنازعہ میں سرکاری اہلکارفیصلہ کرے گا۔ یہ بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ کپل سبل نے کہا کہ آپ نے ایک ایسے افسرکی نشاندہی کی ہے جو سرکاری افسر ہے۔ یہ بذات خود غیرآئینی ہے۔ نئے قانون کا مقصد پارلیمنٹ کی جانب سے 200 ملین روپئے کی جائیداد ضبط کرنا ہے۔
چوتھا– کپل سبل نے کہا کہ یہ مکمل طریقے سے سرکاری ٹیک اوور ہے۔ وقف میرے مذہب کا اٹوٹ حصہ ہے، اسے رام جنم بھومی فیصلے میں منظوری دی گئی ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ کہیں گے کہ اگروقف 300 سال پہلے بنایا گیا ہے توحکومت اس کا ڈیڈ مانگے گی۔ یہ مبہم (الجھانے والا) ہے۔
پانچواں- سینئروکیل حذیفہ احمدی نے پانچ سال تک اسلام پرعمل کرنے کی شرط پرسخت اعتراض کیا۔ حذیفہ احمدی نے کہا کہ اگروقف ایک ضروری مذہبی چیزہے، توپھرنئی شق بہت سے لوگوں کو پانچ سال تک ان کے بنیادی حق سے محروم کردے گی۔ کیا مجھ سے کہا جائے گا کہ کیونکہ آپ پانچ وقت کی نمازنہیں پڑھتے، اس لئے آپ مسلمان نہیں ہو؟ سینئروکیل پی اے ولسن نے بھی پانچ سال والے التزام پراعتراض کیا۔
چھٹا- عدالت میں ایک وکیل ایسے بھی تھے، جنہوں نے اپنی کشمیری پنڈت شناخت کا حوالہ دیتے ہوئے وقف ایکٹ کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں کشمیرسے آتا ہوں۔ میں کشمیری پنڈت ہوں۔ ہمارے یہاں ایک مندرہے۔ فرض کریں کہ اگرمسلمانوں کی اکثریت یہ کہے کہ یہ ہماری ملکیت ہے توکیا یہ منطقی ہوگی؟ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے۔ جہاں تمام اختیارات کلکٹرکودے دیئے گئے ہیں۔
ساتواں- ایک اوردلچسپ دلیل دی گئی ہے کہ نئے ترمیم میں کہا گیا ہے کہ اگرکسی جائیداد پرتنازعہ ہے تواسے وقف املاک نہیں سمجھا جائے گا۔ اب ہم یہاں مان لیتے ہیں کہ ایک زمین کو300 سال سے وقف املاک سمجھا جاتا ہے۔ اب اگرکوئی کہے کہ نہیں یہ سرکاری جائیداد ہے اورپھراگرکلکٹرکواس پرکوئی فیصلہ دینے میں 50 سال لگ جائیں توتب تک اسے وقف املاک کے طورپرنہیں مانا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…
SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…
بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…
راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے راجیہ سبھا رکن منوج جھا نے کہا کہ…
کوہلی ورلڈ کپ کی تاریخ کے کامیاب ترین بلے بازوں میں شامل رہے ہیں۔ انہوں…
جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…