قومی

Jantar Mantar Protest: پیلٹ گن سے ٹیئرگیس تک، جنتر منتر احتجاج پر سپریم کورٹ نے بنائی کمیٹی، پولیس کارروائی کی ہوگی جانچ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 20 جولائی کودہلی کے جنترمنترپرہوئے طلبہ کے احتجاج اورپولیس کارروائی کی غیرجانب دارانہ جانچ کے لیے 5 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کی سربراہی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس آرسُبھاش ریڈی کریں گے۔ کمیٹی احتجاج کے دوران پولیس، نیم فوجی دستوں اوردیگرسیکورٹی اہلکاروں پرضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔

کمیٹی میں پنجاب وہریانہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس روی شنکرجھا، دہلی ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس شالندرکور، سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹررشی کمارشکلا اورمیگھالیہ کے ریٹائرڈ ڈائریکٹرجنرل آف پولیس (ڈی جی پی) ڈاکٹرایل آربشنوئی شامل ہیں۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 10 ستمبر2026 کوہوگی۔

کمیٹی کن معاملات کی تحقیقات کرے گی؟

سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی درج ذیل معاملات کی جانچ کرے گی۔

مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال کے الزامات، جن میں پیلٹ گن، الیکٹرک لاٹھی، لاٹھی چارج اور بغیر وارننگ آنسو گیس کا استعمال شامل ہے۔

مظاہرین کی نگرانی اور ان کے حقِ رازداری کی مبینہ خلاف ورزی۔

خواتین مظاہرین کے خلاف تشدد، ہراسانی اور چھیڑ چھاڑ کے الزامات۔

زخمی مظاہرین کو فوری طبی امداد اور عبوری مالی مدد فراہم کرنے کے امکانات۔

مظاہرین یا مبینہ سماج دشمن عناصر کی جانب سے پولیس پر حملے کے الزامات۔

سرکاری و نجی املاک اور گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ۔

ڈیوٹی کے دوران زخمی ہونے والے سیکورٹی اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو درپیش مشکلات کا ریکارڈ۔

کمیٹی پہلے خواتین کے خلاف تشدد، سنگین چوٹوں اور پولیس کارروائی کے لئے جواب دہی سے متعلق رپورٹ پیش کرے گی۔

سی سی ٹی وی اور ڈرون فوٹیج بھی حاصل کی جائے گی۔

کمیٹی کو احتجاج کے دوران کی سی سی ٹی وی، ڈرون فوٹیج، باڈی کیمروں کی ریکارڈنگ اور وائرلیس لاگز فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ کمیٹی متاثرین اور گواہوں کو اپنی شناختظاہر کئے بغیرشکایات درج کرانے کی سہولت بھی دے گی۔

پرامن احتجاج کے حق پرسپریم کورٹ نے دیا زور

سپریم کورٹ نے منگل، 18 اگست 2026 کواس معاملے میں ہائی پاورڈ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سے قبل ہونے والی سماعت میں عدالت نے کہا تھا کہ شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اورصرف اس بنیاد پرلاٹھی چارج کودرست قرارنہیں دیا جاسکتا کہ احتجاج کیا جا رہا تھا۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا تھا کہ جوبھی اس کارروائی کے لئے ذمہ دارہے، اس کے لیے کوئی بہانہ یا جوازنہیں ہوسکتا۔ عدالت نے معاملے کو سنجیدگی سے لینے اوراسے منطقی انجام تک پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

A Vision for Mumbai’s Future Gateway: ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 1 کی ازسرنو تعمیر، 60 سال پرانی عمارت کی جگہ بنے گا جدید ’گیٹ وے‘

دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…

20 minutes ago

TB Mukt Bharat: انڈمان و نکوبار سے ’ٹی بی مکت بھارت‘ مہم کا آغاز، ایل جی ڈاکٹر دنیش شرما نے افسران و ملازمین کو دلایا عہد

انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…

47 minutes ago