سپریم کورٹ نے اتر پردیش پولیس کو سخت ہدایت دی ہے کہ ملزم کو جیل میں رکھنے کے لیے بار بار نئی ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی۔ چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی اور جسٹس کے ونود چندرن کی بنچ نے واضح کیا کہ کسی بھی مستقبل کی ایف آئی آر میں گرفتاری کے لیے عدالت کی اجازت ضروری ہوگی۔
نئی ایف آئی آر میں بھی ضمانت دی گئی
سماعت کے دوران وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جیسے ہی کسی کیس میں ملزم کو ضمانت ملتی ہے، یوپی پولیس فوری طور پر نئی ایف آئی آر درج کر دیتی ہے تاکہ وہ جیل سے باہر نہ نکل سکے۔ اس کے بعد عدالت نے متعلقہ شخص کے خلاف درج نئی ایف آئی آر میں بھی ضمانت دے دی اور مستقبل میں کسی بھی نئی ایف آئی آر کے تحت گرفتاری کے لیے عدالت کی منظوری لازمی قرار دی۔
پولیس نے ضمانت کے بعد بھی ایف آئی آر درج کی
ہائی کورٹ نے 12 اگست کو ملزم کو آئی پی سی کی دفعات 376 ڈی، 323 اور 506 کے تحت ضمانت دی تھی، لیکن اگلے دن 13 اگست کو پولیس نے اس کے خلاف ایس سی/ایس ٹی ایکٹ اور آئی پی سی کی دیگر سنگین دفعات میں نئی ایف آئی آر درج کر دی۔ ملزم کے والد سابقہ ایم ایل سی ہیں اور بہوجن سماج پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ خاندان کا الزام ہے کہ ریاست میں سیاسی تبدیلی کے بعد حکمران پارٹی کے اشارے پر پولیس انہیں نشانہ بنا رہی ہے۔
کل 33 فوجداری کیس درج، جائیداد پر قبضے کے الزامات
اب تک مجموعی طور پر 33 فوجداری مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ خاندان نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ زمین مافیا نے ان کی جائیدادوں پر غیر قانونی قبضہ کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ اسی طرح کے ایک کیس میں مئی 2025 میں سپریم کورٹ نے یوپی حکام کو ہدایت دی تھی کہ وہ سیاسی طور پر اثرورسوخ رکھنے والے شخص کے خلاف نئی ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت نے کانگریس لیڈروں راہل گاندھی، ملیکارجن…
ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں بھاری جانی نقصان کی…
انڈمان و نکوبار جزائر کے لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے شاردیہ نوراتری کے مبارک…
دور دراز جزائر تک ایندھن کی محفوظ اور قابل اعتماد فراہمی کو ملے گی تقویت،…
جالندھر میں واقع لوولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو) کے 21 سالہ طالب علم کی…
بنگلہ دیش نے دوسری اننگز میں 6 وکٹوں پر 223 رنز بنائے، حسن محمود نے…