قومی

Supreme Court Concern On Bail Delays In High Courts: ہائی کورٹس میں ضمانت درخواستوں میں تاخیر پر سپریم کورٹ برہم، کہا- آزادی سے جڑے معاملات میں لمبی تاریخیں قابل قبول نہیں

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے ملک بھر کی ہائی کورٹس میں ضمانت سے متعلق درخواستوں کی سماعت میں غیر ضروری تاخیر پر سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کسی بھی شخص کی آزادی سے وابستہ معاملات کو طویل مدت تک مؤخر کرنا آئینی روح کے خلاف ہے اور ایسی روش اب قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وِپُل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے اس معاملے کو انتہائی سنجیدہ قرار دیا۔ سپریم کورٹ نے تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرار جنرلز کو ہدایت دی ہے کہ وہ چار ہفتوں کے اندر اندر ضمانت سے متعلق تمام معاملات کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے خاص طور پر کہا ہے کہ یکم جنوری 2025 کے بعد دائر ہونے والی تمام ضمانت درخواستوں—چاہے وہ پیشگی ضمانت ہوں، باقاعدہ ضمانت یا سزا معطلی سے متعلق درخواستیں—کی مکمل جانکاری فراہم کی جائے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ درخواست کب دائر ہوئی، اگر اس پر فیصلہ ہو چکا ہے تو کب ہوا، اور اگر نہیں ہوا تو اگلی سماعت کی تاریخ کیا مقرر ہے۔

یہ اہم ہدایات ”سنی“ نامی ایک درخواست گزار کی عرضی پر سماعت کے دوران دی گئیں۔ عدالت نے اس موقع پر کہا کہ اگرچہ ہائی کورٹس پر مقدمات کا بوجھ زیادہ ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آزادی سے جڑے معاملات کو پسِ پشت ڈال دیا جائے۔ بنچ نے کہا کہ ضمانت کی درخواست کسی بھی ملزم کے لیے زندگی اور آزادی کا سب سے بڑا سوال ہوتی ہے، اور اس پر تاخیر انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔

سپریم کورٹ نے اس دوران پٹنہ ہائی کورٹ پر خاص طور پر سخت تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ پٹنہ ہائی کورٹ میں ضمانت کی درخواستیں کئی کئی مہینوں تک سماعت کے لیے فہرست میں بھی شامل نہیں کی جاتیں، جو نہایت تشویشناک ہے۔ عدالت نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ صرف پٹنہ ہی نہیں بلکہ کئی دیگر ہائی کورٹس میں بھی ضمانت کے معاملات کو فوری سماعت کے لیے ترجیح نہیں دی جا رہی، جس کے نتیجے میں ملزمان طویل عرصے تک جیل میں رہنے پر مجبور ہیں، بغیر اس کے کہ انہیں معلوم ہو کہ ان کی درخواست کب سنی جائے گی۔

بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی عدالتی نظام کی کامیابی کا پیمانہ یہی ہے کہ وہ شہریوں کی آزادی کا کس حد تک تحفظ کرتا ہے۔ عدالت نے عندیہ دیا کہ اگر ضرورت پڑی تو ضمانت کے معاملات کے لیے الگ سے مزید بنچ تشکیل دی جا سکتی ہیں۔ اگرچہ روستر بنانا چیف جسٹس آف ہائی کورٹ کا اختیار ہے، لیکن سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ وہ اس مسئلے پر مناسب رہنما ہدایات جاری کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ عدالتِ عظمیٰ کا کہنا تھا کہ اگر بروقت اقدامات کیے گئے تو اس سے ملک بھر میں لاکھوں زیرِ سماعت قیدیوں کو بڑی راحت مل سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس پورے معاملے کو انسانی حقوق اور آئینی آزادیوں سے جڑا ہوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام کو اس سمت میں فوری اور مؤثر اصلاحات کی ضرورت ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

6 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

6 hours ago