قومی

Student Death DJ Noise: بلرام پور، گنیش وسرجن کے دوران طالبہ کی اچانک موت، ڈی جے کی تیز آواز پر اٹھے سوال

اتر پردیش کے بلرام پور میں گنیش وسرجن کے دوران ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس کے بعد شہر میں غم کا ماحول ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ڈیوائن پبلک اسکول کی ایک طالبہ کی وسرجن پروگرام کے دوران اچانک طبیعت خراب ہوگئی۔ حالت بگڑنے کے بعد اسے طبی امداد دی گئی، لیکن بعد میں اس کی موت ہوگئی۔ واقعے کے بعد اہل خانہ اور مقامی لوگوں میں غم کے ساتھ کئی سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ گنیش وسرجن کے دوران تیز ڈی جے اور آس پاس کے شور کے درمیان طالبہ کی طبیعت خراب ہوئی تھی۔ تاہم، فی الحال اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ طالبہ کی موت کا براہ راست تعلق تیز آواز یا ڈی جے سے تھا۔ موت کی اصل طبی وجہ میڈیکل جانچ، طبی رپورٹ اور انتظامی تحقیقات کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔

عقیدت کے ساتھ حفاظت پر بھی بحث

گنیش اتسو اور وسرجن جیسے مذہبی پروگرام لوگوں کی عقیدت اور اجتماعی شرکت سے وابستہ ہوتے ہیں۔ ایسے پروگراموں میں بڑی تعداد میں عقیدت مند شریک ہوتے ہیں، جبکہ بھکتی موسیقی، ڈھول، نگاڑے اور ڈی جے بھی تقریبات کا حصہ ہوتے ہیں۔ تاہم اس واقعے کے بعد مذہبی پروگراموں کے دوران آواز کی شدت اور لوگوں کی حفاظت کو لے کر بحث تیز ہوگئی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے پروگراموں میں مقررہ صوتی حدود کی پابندی کی جانی چاہیے۔ خاص طور پر بچوں، بزرگوں، حاملہ خواتین اور صحت سے متعلق مسائل کا سامنا کرنے والے افراد کے لیے بہت زیادہ تیز آواز پریشانی کا سبب بن سکتی ہے۔

غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ

واقعے کے بعد مقامی سطح پر معاملے کی غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے ذریعے یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ طالبہ کی طبیعت اچانک کیوں خراب ہوئی اور اس کی موت کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی، اگر تحقیقات میں کسی قسم کی قواعد کی خلاف ورزی سامنے آتی ہے تو ذمہ داری طے کرکے ضروری کارروائی کی جانی چاہیے۔ فی الحال طالبہ کی موت اور تیز ڈی جے کے درمیان براہ راست تعلق کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ایسے میں طبی اور انتظامی تحقیقات کی رپورٹ اہم ہوگی۔ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کی اصل وجہ اور ممکنہ لاپروائی کی صورت حال واضح ہوسکے گی۔

مذہبی تقریبات میں حساسیت بھی ضروری

یہ واقعہ مذہبی تقریبات میں جوش و خروش کے ساتھ حساسیت اور ذمہ داری کی ضرورت کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ عقیدت اور جشن کے ماحول میں اگر آواز کی مقررہ حد، بھیڑ کے انتظام اور صحت سے متعلق احتیاطی تدابیر کا خیال رکھا جائے تو ایسے پروگراموں کو مزید محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

UPITS 2026: یو پی آئی ٹی ایس 2026، 25 ستمبر سے گریٹر نوئیڈا میں سجے گا اتر پردیش کا بڑا تجارتی میلہ، وزیر داخلہ امت شاہ کریں گے افتتاح

پانچ روزہ بین الاقوامی تجارتی میلے میں اتر پردیش کی صنعت، برآمدات، ٹیکنالوجی، دستکاری اور…

2 hours ago