قومی

Student Riot in Patna:پٹنہ میں طلبہ کا ہنگامہ،15نکاتی مطالبات کو لے کر وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے گھیراؤکی کوشش،مارچ کر رہے طلبہ کوپولیس نے حراست میں لیا

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں منگل کو طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا۔ بڑی تعداد میں طلبہ اپنی 15 نکاتی مطالبات کو لے کر سڑکوں پر اتر آئے۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے گھیراؤ کی کوشش کی اور جے پی گولمبر کے قریب بیریکیڈنگ توڑ دی۔ اس دوران طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی۔ طلبہ 70ویں BPSC امتحان منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ امتحان میں مبینہ طور پر پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔ طلبہ گزشتہ کئی دنوں سے گردنی باغ دھرنا مقام پر اپنی 15 نکاتی مطالبات کو لے کر احتجاج کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے گھیراؤ کی کوشش

گردنی باغ میں جاری طلبہ تحریک کی حمایت میں چھاتر یووا سنگھرش مورچہ نے منگل کو وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کے گھیراؤ کا پروگرام منعقد کیا۔ مورچہ نے بہار بھر کے طلبہ، امیدواروں اور نوجوانوں سے بڑی تعداد میں اس احتجاج میں شامل ہونے کی اپیل کی تھی۔ مظاہرین نے جے پی گولمبر پر پولیس کی جانب سے لگائی گئی بیریکیڈنگ توڑ دی۔ ایک احتجاجی طلبا لیڈر نے کہا کہ ان لوگوں نے حکام کے سامنے اپنے مطالبات رکھے ہیں اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان کی بات حکومت تک پہنچائی جائے گی۔ ان کے مطابق تعلیم کے شعبے سے متعلق مطالبات پر حکومت کی جانب سے مثبت اشارے بھی ملے ہیں، تاہم اگر وزیراعلیٰ سے بات نہیں ہوتی تو احتجاج جاری رہے گا۔ 70ویں BPSC امتحان منسوخ کرنے کے مطالبے کے ساتھ گاندھی میدان سے راج بھون کی جانب مارچ کر رہے طلبہ کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔

طلبہ کے 15 نکاتی مطالبات میں کیا شامل ہے؟

طلبہ کے اہم مطالبات میں TRE-4 میں پہلے کی طرح صرف ایک امتحان منعقد کرنا، نیگیٹو مارکنگ ختم کرنا اور 70ویں BPSC امتحان منسوخ کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ ’ایک امیدوار، ایک ریزلٹ‘ پالیسی نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ طلبہ BSSC کے ذریعے کنٹریکٹ ملازمین کو دیے جانے والے ویٹیج کو ختم کرنے، CGL-4، BSO اور AEDO امتحانات کی تاریخوں کا اعلان کرنے اور ڈومیسائل پالیسی نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کنٹریکٹ ملازمت کے بجائے مستقل ملازمت دی جانی چاہیے۔

سمراٹ حکومت نے تشکیل دی کمیٹی

طلبہ کے احتجاج کے درمیان حکومت نے بھی اقدامات شروع کیے ہیں۔ BPSC TRE-4 میں بھرتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امتحانات کو شفاف اور منصفانہ بنانے کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی ریٹائرڈ جج کریں گے۔ کمیٹی امتحانات میں ممکنہ بے ضابطگیوں کو روکنے کے اقدامات کا جائزہ لے گی۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب طلبہ اپنے مطالبات کو لے کر سڑکوں پر احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

3 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

4 hours ago