قومی

LPU Sexual Assault Case: لولی پروفیشنل یونیورسٹی میں طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کا معاملہ، طلبہ کی سکیورٹی اور تعلیم کو ترجیح دی جانی چاہیے: پروفیسر سلیم انجینئر

نئی دہلی: مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین پروفیسر سلیم انجینئر نے پھگواڑہ کی لولی پروفیشنل یونیورسٹی (ایل پی یو )میں طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی بے چینی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اگرچہ ایل پی یو نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ تاہم پولیس نے ایک نامعلوم شخص کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی ہے اور معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سی سی ٹی وی فوٹیج، فورانسک شواہد اور فون ڈیٹا کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے

میڈیا کے لیےجاری ایک بیان میں مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ہم یونیورسٹی انتظامیہ اور پنجاب حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ طلبہ کی سلامتی اور تعلیم کو ترجیح دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کا نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو، اس وقت سب سے اہم تشویش طلبہ کی سکیورٹی ہونی چاہیے۔ طلبہ کی سکیورٹی سے متعلق ہر الزام کی منصفانہ تحقیقات ضروری ہے، جبکہ غیر مصدقہ اطلاعات اور تشدد کو ہرحال میں روکا جانا چاہئے۔ ہم ایل پی یو سے یہ بھی اپیل کرتے ہیں کہ کیمپس اور ہاسٹل کی سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے اور طلبہ کو اپنی شکایات درج کرانے کے لیے مناسب اور مؤثر ذرائع فراہم کئے جائیں۔

بحران کا خمیازہ طلبہ کو نہیں بھگتنا چاہیے

پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ آئین ہند کا آرٹیکل 21 زندگی اور شخصی آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 21A تعلیم کی آئینی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کیمپس میں پیدا ہونے والے بحران کا خمیازہ طلبہ کو نہیں بھگتنا چاہیے۔ یونیورسٹی کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ موجودہ تعطل کے نتیجے میں طلبہ کی تعلیم کا نقصان نہ ہونے پائے۔ ہم پنجاب حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ تحقیقات فوری اور غیر جانب دارانہ طور پر مکمل کی جائیں ساتھ ہی ایل پی یو سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چھوٹی ہوئی کلاسوں اور ملتوی شدہ امتحانات کے لیے تعلیمی بحالی کا منصوبہ تیار کرے۔ طلبہ کو شکایت اور جواب دہی کا مطالبہ کرنے کا پورا حق ہے، لیکن ان کے خدشات اور مطالبات پرامن طریقے سے سامنے آنے چاہئیں۔ اس وقت ترجیح حقیقت سامنے لانے، سکیورٹی کو یقینی بنانے، اعتماد بحال کرنے اور تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کو دی جانی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Delhi High Court: کیا طلبہ کو ڈرانا پولیس کا نیا اصول ہے؟ آئیسا کا دہلی پولیس پر حملہ، ہائی کورٹ سے لگائی فریاد

دہلی ہائی کورٹ 22 اکتوبر کو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا…

28 minutes ago

UP News: گورکھپور میں درگا وسرجن کے دوران بڑا حادثہ، ہائی ٹینشن تار کی زد میں آئے لوگ، 3 کی موت، 7 جھلسے

اتر پردیش کے گورکھپور کے گلریہا علاقے میں درگا مورتی وسرجن کے دوران ٹریکٹر ٹرالی…

48 minutes ago

Saurav Das-Ashutosh Ranka Bail: سورو داس-آشوتوش رانکا کو ملی ضمانت، ایس ای ایم کورٹ نے دیا رہا کرنے کا حکم

دہلی پولیس نے سورَو داس اورآشوتوش رانکا کو13 اکتوبرکوحراست میں لیا تھا۔ دونوں پرالزام ہے…

3 hours ago