نئی دہلی : پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج کے درمیان آج 4 مئی کو بھارتی شیئر بازار میں غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔ بازار کے آغاز کے ساتھ ہی سرمایہ کاروں کے مثبت رجحان نے انڈیکس کو تیزی کے ساتھ اوپر کی جانب دھکیل دیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ انتخابی نتائج کو لے کر مارکیٹ میں اعتماد کا ماحول قائم ہے۔کاروبار کے ابتدائی گھنٹوں میں BSE Sensex میں زبردست اضافہ درج کیا گیا اور یہ 583.91 پوائنٹس کی چھلانگ لگا کر 77,497.41 کی سطح تک پہنچ گیا۔ اسی طرح NIFTY 50 بھی پیچھے نہیں رہا اور 208.20 پوائنٹس کی مضبوط بڑھوتری کے ساتھ 24,205.75 کی سطح پر ٹریڈ کرتا نظر آیا۔ دونوں بڑے انڈیکس کا سبز نشان میں رہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ سرمایہ کاروں نے انتخابی رجحانات کو مثبت انداز میں لیا ہے۔
ماہرین کے مطابق مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ، آسام اور پڈوچیری میں جیسے جیسے نتائج واضح ہوں گے، بازار میں اتار چڑھاؤ مزید تیز ہو سکتا ہے۔ ابتدائی رجحانات سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ سرمایہ کار سیاسی استحکام اور پالیسی تسلسل کی توقع کر رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر بازار کی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔
بازار کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی تیزی عموماً اس وقت دیکھی جاتی ہے جب سرمایہ کاروں کو حکومت کی پالیسیوں میں تسلسل اور اقتصادی اصلاحات کی امید ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابی نتائج کے دوران بازار حساس رہتا ہے اور ہر نئی اپڈیٹ پر فوری ردعمل دیتا ہے۔ادھر بینکنگ، آئی ٹی اور انفراسٹرکچر سیکٹر کے شیئرز میں بھی خاصی خریداری دیکھی گئی، جس نے مجموعی طور پر مارکیٹ کو سہارا دیا۔ سرمایہ کاروں کی دلچسپی خاص طور پر ان شعبوں میں زیادہ رہی جنہیں حکومت کی پالیسیوں سے براہ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔مجموعی طور پر آج کا دن شیئر بازار کے لیے نہایت مثبت ثابت ہو رہا ہے، تاہم ماہرین نے سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے کیونکہ نتائج کے مکمل طور پر سامنے آنے کے بعد بازار میں اچانک اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
کم سے کم درجۂ حرارت میں کوئی خاص تبدیلی درج نہیں کی گئی، تاہم یہ…
ہندوستانی کپتان کی توجہ فی الحال ٹیم کے لیے نئے معیار قائم کرنے پر ہے۔…
ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) نے بتایا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل (این…
مظاہرے کے دوران پولیس پر مار پیٹ کا الزام لگانے والی کیرالہ کی قانون کی…
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…