قومی

FIRs against student protesters: ریاستی حکومتیں طلبہ مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لینے یا بند کرنے کے لیے پوری طرح آزاد: سپریم کورٹ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر کو واضح کیا کہ دہلی حکومت اور دیگر ریاستی حکومتیں حالیہ طلبہ احتجاج کے دوران درج کی گئی ایف آئی آرز کو بند کرنے یا قانونی طریقۂ کار کے تحت واپس لینے کے لیے آزاد ہیں۔ عدالت نے کہا کہ 28 جولائی کے اپنے سابقہ حکم میں ’’مجرمانہ پس منظر‘‘ (Criminal Antecedents) کی اصطلاح صرف ایسے افراد کے لیے استعمال کی گئی تھی جن پر سنگین اور گھناؤنے جرائم کے الزامات ہوں۔

عدالت میں سماعت کے دوران کیا ہوا؟ 

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک کے خلاف 20 جولائی کو ہونے والے طلبہ احتجاج کے دوران پولیس کارروائی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کر رہا تھا۔ درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ ’’مجرمانہ پس منظر‘‘ کی اصطلاح کی بنیاد پر ایسے طلبہ کے خلاف بھی مقدمات برقرار رکھے جا رہے ہیں جن کے خلاف ماضی میں صرف ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی یا سابقہ احتجاج میں شرکت جیسے معمولی مقدمات درج تھے۔

ایف آئی آر واپس لینے کا قانونی طریقہ

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے تحت ایف آئی آر کو براہ راست واپس لینے کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کلوزر رپورٹ داخل کر سکتی ہے، استغاثہ واپس لینے کی درخواست دے سکتی ہے یا متعلقہ عدالت سے کارروائی ختم کرنے (Quashing) کی استدعا کر سکتی ہے۔ سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے موقف اختیار کیا کہ معمولی نوعیت کے مقدمات کی بنیاد پر طلبہ کو ریلیف سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس پر سالیسٹر جنرل نے کہا کہ بعض ملزمان کے خلاف قتل اور عصمت دری جیسے سنگین مقدمات بھی درج ہیں۔

پیلٹ گن، چہرہ شناسی اور پولیس کارروائی پر سوالات

سینئر وکیل این ہری ہرن نے احتجاجی طلبہ کی شناخت کے لیے چہرہ شناسی (Facial Recognition) اور بایومیٹرک نگرانی کے استعمال پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ مظاہرین نے اپنے بایومیٹرک ڈیٹا کے استعمال کی کبھی اجازت نہیں دی۔ سینئر وکیل گوپال شنکر نارائن نے ان پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جن کی مبینہ زیادتیوں کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جو پولیس اہلکار طاقت کا ناجائز استعمال کریں انہیں تحفظ نہیں ملنا چاہیے، تاہم طلبہ احتجاج کی آڑ میں سنگین جرائم میں ملوث افراد کو بھی قانون سے فائدہ نہیں اٹھانے دیا جا سکتا۔ سینئر وکیل ورندا گروور نے شہری مظاہرین کے خلاف پیلٹ گن کے استعمال کے قانونی جواز پر سوال اٹھایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس حوالے سے ایک واضح پروٹوکول مرتب کرے گی کہ کن حالات میں اور کس طریقے سے پیلٹ گن استعمال کی جا سکتی ہے۔

خصوصی تحقیقاتی ٹیم پر غور

سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ پولیس کی مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے پولیس افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) یا کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 18 اگست مقرر کر دی ہے۔ واضح رہے کہ 20 جولائی کو دہلی کے جنتر منتر سے پارلیمنٹ مارچ کے دوران ہزاروں طلبہ نے امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک اور امتحانی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا تھا۔ پولیس کے مطابق رکاوٹیں توڑنے اور مبینہ پتھراؤ کے بعد آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا گیا، جبکہ مظاہرین نے پولیس پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

ODI Series: ون ڈے سیریز میں ناقابل شکست برتری حاصل کرنے کے ارادے سے اترے گی ٹیم انڈیا، زمبابوے کو دورے کی پہلی جیت کی تلاش

بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم اور زمبابوے کے درمیان ون ڈے سیریز کا دوسرا مقابلہ اتوار…

3 minutes ago

Jio Platforms IPO: شیئر بازار میں JIO کی شاندار انٹری کی تیاری، لسٹنگ کے ساتھ بھارت کی ٹاپ 3 کمپنیوں میں ہوگی شامل

ریلائنس انڈسٹریز کے جیو پلیٹ فارمز کا آئی پی او سرمایہ کاروں کے درمیان زبردست…

21 minutes ago

JDU Expels Anant Singh Neelam Devi For 6 Years: بہار میں جے ڈی یو کی بڑی کارروائی، اننت سنگھ اور نیلم دیوی 6 سال کے لیے پارٹی سے خارج

جن سوراج کے امیدوار کی حمایت کرنا پڑا مہنگا، قانون ساز کونسل انتخابات میں کراس…

1 hour ago