بھارتی فوج نے انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے مقامی نجی کمپنیوں کے ساتھ 295 کروڑ روپے کے دو معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں جاسوسی ڈرونز اور لوئٹرنگ میونیشنز کی خریداری شامل ہے۔ یہ معاہدے ہندوستان کے ‘آتم نربھر بھارت’ اقدام کے تحت کیے گئے ہیں، جو دفاعی شعبے میں خود انحصاری کو فروغ دیتا ہے۔ یہ اقدام جموں و کشمیر کے پہلگام میں اپریل 2025 کے دہشت گرد حملے کے بعد اور اس کے جواب میں آپریشن سندور کے تناظر میں اہم ہے، جس نے جدید ڈرون ٹیکنالوجی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ معاہدوں کے تحت حاصل کیے جانے والے سازوسامان فوج کی نگرانی، درست نشانہ بازی، اور آپریشنل تیاری کو بہتر بنائیں گے، خاص طور پر سرحدی علاقوں میں جہاں دہشت گردی ایک مستقل چیلنج ہے۔
ناکاسترا-1آر لوئٹرنگ میونیشنز کی خریداری
پہلا معاہدہ 158 کروڑ روپے کا ہے، جو ناگاسترا-1آر لوئٹرنگ میونیشنز کے 450 یونٹس کی خریداری کے لیے ناسک کی سولر انڈسٹریز لمیٹڈ کے ساتھ کیا گیا۔ یہ ‘کامیکازے ڈرونز’ درست نشانہ بازی کے لیے بنائے گئے ہیں، جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ دراندازی کو روکنے اور دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ناگاسترا-1آر 360 ڈگری گمبل کیمرہ اور اختیاری تھرمل امیجنگ سے لیس ہے، جو رات کے وقت آپریشنز کو ممکن بناتا ہے۔ یہ لوئٹرنگ میونیشنز آپریشن سنندور کے دوران نو دہشت گرد کیمپوں کو تباہ کرنے میں کامیاب رہے، جو ان کی افادیت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی ترسیل ایک سال کے اندر متوقع ہے، جو فوج کی فوری ردعمل کی صلاحیت کو بڑھائے گی۔
ہائبرڈ منی یو اے ویز کا آرڈر
دوسرا معاہدہ 137 کروڑ روپے کا ہے، جو ممبئی کی آئیڈیا فورج ٹیکنالوجی کو ہائبرڈ منی ان مینڈ ایریل وہیکلز (یو اے ویز) کے لیے دیا گیا۔ یہ فکسڈ ونگ ڈرونز عمودی ٹیک آف اینڈ لینڈنگ (وی ٹی او ایل) کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو انہیں ریئل ٹائم جاسوسی اور آپریشنل لچک کے لیے مثالی بناتے ہیں۔ یہ ڈرونز حساس علاقوں میں نگرانی کے لیے اہم ہیں، جہاں فوری اور درست انٹیلی جنس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ معاہدہ فوج کی جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے، جو غیر روایتی خطرات جیسے کہ دشمن کے ڈرونز اور دراندازی کے خلاف موثر ثابت ہوگی۔
آتم نربھر بھارت اور اسٹریٹجک اہمیت
یہ معاہدے وزارت دفاع کے 2,000 کروڑ روپے کے ہنگامی پروکیورمنٹ بجٹ کا حصہ ہیں، جو آپریشن سندور کے بعد فوج کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ مکمل طور پر مقامی کمپنیوں سے کیے گئے یہ معاہدے بھارت کی دفاعی خود انحصاری کی طرف ایک اہم قدم ہیں۔ ناگاسترا-1آر اور ہائبرڈ منی یو اے ویز جیسے جدید نظام فوج کو غیر متناظر جنگ کے تقاضوں سے نمٹنے کے قابل بنائیں گے، خاص طور پر جموں و کشمیر جیسے علاقوں میں جہاں پاکستان کی حمایت یافتہ دہشت گردی ایک مسلسل خطرہ ہے۔ یہ خریداریاں نہ صرف فوج کی آپریشنل صلاحیتوں کو بڑھاتی ہیں بلکہ مقامی دفاعی صنعت کو بھی فروغ دیتی ہیں، جو بھارت کو عالمی دفاعی منظرنامے میں ایک مضبوط مقام فراہم کرتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…
جنوری 2024 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے لکشدیپ دورے کے بعد سیاحت کے ساتھ…
اکھیل وشو گایتری پریوار کے زیر اہتمام صوبائی شکشک گریما سمیلن میں ریاست بھر سے…