قومی

Abu Asim Azmi on Aurangzeb: ابوعاصم اعظمی نے تنازعہ کے بعد واپس لیا اپنا بیان، سماجوادی پارٹی کے لیڈر نے کہا- میں نے کسی کی توہین نہیں کی

سماجوادی پارٹی کے لیڈراورمہاراشٹراسمبلی میں مان کھرد شیواجی نگر سیٹ سے رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے اورنگ زیب کوعظیم قراردیا تھا، جس کے بعد سیاسی ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ آخرکارمنگل کوابوعاصم اعظمی نے ٹوئٹ کرکے اپنا بیان واپس لے لیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیان کو توڑمروڑکرپیش کیا گیا ہے۔ انہوں نے چھترپتی شیواجی مہاراج، سنبھاجی مہاراج سے متعلق کوئی توہین آمیزتبصرہ نہیں کیا ہے۔

انہوں نے لکھا، میرے الفاظ کوتوڑمروڑکردکھایا گیا ہے۔ اورنگ زیب کے بارے میں میں نے وہی کہا ہے جومؤرخین اوررائٹروں نے کہا ہے۔ میں نے چھترپتی شیواجی مہاراج، سنبھاجی مہاراج یا دیگرکسی بھی عظیم شخصیات کے بارے میں کوئی توہین آمیزتبصرہ نہیں کیا ہے، لیکن پھربھی میری اس بات سے کسی کوتکلیف ہوئی تومیں اپنے الفاظ، اپنا بیان واپس لیتا ہوں۔ اس بات کو سیاسی موضوع بنایا جا رہا ہے اور اس کی وجہ سے مہاراشٹراسمبلی کے بجٹ سیشن کوبند کرنا میں سمجھتا ہوں کہ یہ مہاراشٹر کی عوام کا نقصان کرنا ہے۔

ایکناتھ شندے نے کیا تھا معافی کا مطالبہ

وہیں، شیوسینا سربراہ اورمہاراشٹرکے نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے ابوعاصم اعظمی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا اور ان پرملک سے غداری کا معاملہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ شندے نے ممبئی میں کہا تھا،، ’’ان کے (ابواعظمی) کی طرف سے دیا گیا بیان بہت غلط، ناقابل قبول اورقابل مذمت ہے۔ اورنگ زیب کوایک اچھا منتظم کہنا گناہ ہے۔ یہ وہی اورنگ زیب ہے، جس نے چھترپتی سنبھاجی مہاراج کو 40 دنوں تک اس پرتشدد کیا گیا تھا۔ ابوعاصم اعظمی نے فوراً معافی مانگنی چاہئے۔ ہمارے وزیراعلیٰ نے بھی اسے بہت سنجیدگی سے لیا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ قومی ہیروزکی توہین کرنے پرابوعاصم اعظمی پرملک سے غداری کا مقدمہ چلنا چاہئے۔ قومی ہیروزکے خلاف بات کرنے والوں کو ملک دشمن کہا جانا چاہئے۔

بی جے پی نے بھی بولا حملہ

بی جے پی کے قومی ترجمان اور راجیہ سبھا رکن سدھانشو ترویدی نے کہا کہ سماجوادی پارٹی کے لیڈرابوعاصم اعظمی اورکانگریس پارٹی کے لیڈرراشد علوی کی طرف سے تاریخ کے سب سے ظالم اور جابرحکمران اورنگ زیب کی غیر ضروری اور ناپسندیدہ تعریف پورے ہندوستانی سماج کی بڑی توہین ہے۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ ہندو مذہب کومکمل طور پرتباہ کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیارہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ ہندوستانی ثقافت اورہندوستانی روایت سے کتنی نفرت کرتے ہیں۔

ابوعاصم اعظمی نے کیا دیا تھا بیان؟

دراصل، ممبئی میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے ابوعاصم اعظمی نے کہا تھا کہ فلم چھاوا میں تاریخ کی تصویر مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ اورنگ زیب نے کئی مندربنوائے۔ مجھے نہیں لگتا کہ اورنگ زیب ایک ظالم حکمراں تھا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا سنبھاجی کے تئیں ان کا رویہ ظالمانہ تھا تو ابوعاصم اعظمی نے کہا تھا کہ یہ اقتدارکی جدوجہد تھی، ہندو اور مسلمانوں کے درمیان جدوجہد نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

PM Modi and Swiss President to Meet Today: بھارت-سوئٹزرلینڈ تعلقات میں نئے باب کا آغاز، پی ایم مودی اور سوئس صدر کے درمیان آج ہوگی اہم ملاقات

اعلیٰ سطحی ملاقات کا اہم ایجنڈا دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں…

24 minutes ago

Jantar Mantar Protest: دہلی کے جنتر منتر پرخاتون سے مبینہ بدسلوکی کے خلاف پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے کے باہر احتجاج

روزی نے بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ دیگر خاتون صحافی بھی موجود تھیں۔…

2 hours ago

SIR Row Escalates: ایس آئی آر پر بڑھا تنازع، گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ, سپریم کورٹ میں آج سماعت

نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق، عرضیوں میں چیف الیکشن کمشنر کی…

2 hours ago