قومی

ST Hasan furious over Rambhadracharya: ’’وہ اپنی دکان چلا رہے ہیں…‘‘، رام بھدراچاریہ کے ’منی پاکستان‘ والے بیان پر بھڑکے ایس پی لیڈر ایس ٹی حسن

مرادآباد: آدھیاتمک گرو رام بھدراچاریہ کی جانب سے مغربی اتر پردیش کو ’منی پاکستان‘ کہے جانے پر سماج وادی پارٹی کے لیڈر ایس ٹی حسن نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس طرح کے بیانات نہیں دیں گے تو ان کی دکان کیسے چلے گی۔

ایس پی کے سابق رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ایس ٹی حسن نے آدھیاتمک گرو رام بھدراچاریہ کے میرٹھ میں کتھا کے دوران مغربی اتر پردیش کو ’منی پاکستان‘ کہے جانے پر سخت اعتراض جتایا۔

آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رام بھدراچاریہ اس طرح کے بیانات دے کر سماج میں خوف اور تقسیم پیدا کر رہے ہیں تاکہ ان کی ’دکان‘ چلتی رہے اور ایک خاص سیاسی پارٹی کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو-مسلمان مغربی اتر پردیش میں بھائیوں کی طرح رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں ساتھ دیتے ہیں۔

’’ہندو خطرے میں‘ کا نیریٹیو کیسے بنتا ہے‘‘

حسن نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب حکومت، فوج، پولیس اور وسائل ہندو قیادت کے پاس ہیں تو پھر ’ہندو خطرے میں‘ کا نیریٹیو کیسے بنتا ہے؟ انہوں نے مسلمانوں کے عقیدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور ہندو بھائیوں کے ساتھ ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔

رام بھدراچاریہ پر سیاست کرنے کا لگایا الزام

رام بھدراچاریہ پر سیاست کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے لوگوں کو مذہبی کہا جا سکتا ہے، جو مبینہ طور پر سماج کو بانٹ کر اپنی ’دکان‘ چلاتے ہیں؟

پاکستان کیسے بنا یہ کسی سے چھپا نہیں: حسن

انہوں نے کہا کہ پاکستان کیسے بنا یہ کسی سے چھپا نہیں ہے۔ رام بھدراچاریہ مغربی اتر پردیش کو ’منی پاکستان‘ کہہ کر مسلمانوں کو دہشت گرد بتا رہے ہیں۔ انہیں کیا بولنا ہے اور کیوں بولنا ہے، بولنے سے پہلے انہیں سوچنا چاہیے۔ ’ہندو خطرے‘ کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر وہ اس طرح کے بیانات دیں گے تو ظاہر ہے کہ خوف کا ماحول پیدا ہوگا۔ اسی کے ساتھ ہی ان کی دکان بھی چمکے گی۔

یہ ملک سب کا ہے اور سب کو یہاں رہنے کا حق

انہوں نے کہا کہ آدھیاتمک گرو رام بھدراچاریہ کو بہت عزت دی گئی ہے، انہیں اس طرح مغربی اتر پردیش کو ’منی پاکستان‘ نہیں کہنا چاہیے۔ یہ ملک سب کا ہے اور سب کو یہاں رہنے کا حق ہے۔ ایس پی لیڈر نے کہا کہ ’منی پاکستان‘ جیسے بیانات سماج میں نفرت پھیلانے کا کام کرتے ہیں، جس کا اثر بچے سے لے کر بزرگ تک پر پڑتا ہے۔ ایسے بیانات سے صرف نقصان ہی ہوتا ہے، فائدہ نہیں ملتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

RBI E Rupee Alternative To UPI: نہ نقد رقم کا جھنجھٹ، نہ ایم ڈی آر کا خوف، کیا ہے آر بی آئی کا متبادل یو پی آئی؟

ای روپے کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے والے دکانداروں کو بینک چارجز سے بچنے…

1 hour ago

UP Politics 2027: عمران مسعود کی تاج پوشی: مسلم آؤٹ ریچ یا اکھلیش یادو کو براہِ راست پیغام؟

اتر پردیش میں کانگریس کی نئی تنظیمی حکمت عملی، مسلم ووٹوں، سیٹوں کی تقسیم اور…

2 hours ago