قومی

SP chief targets govt: سماجوادی پارٹی سربراہ نے رافیل طیارہ معاملے پر حکومت کو بنایا نشانہ، ’میک ان انڈیا‘ پر اٹھائے سوالات

لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھیلیش یادو نے اتوار کو رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری اور بھارت-امریکہ معاشی تعلقات کے تناظر میں مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے ’میک اِن انڈیا‘ اور ’اسکل انڈیا‘ جیسے پروگراموں پر سوالات اٹھائے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی “ایپسٹین فائلز” پر بحث نہیں کرنا چاہتی، تاہم سوشل میڈیا کے بڑھتے اثرات اور امریکہ کے ساتھ بھارت کی معاشی شراکت داری پر سنجیدہ غور ضروری ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا: ’’ہم ایپسٹین فائلز پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ سوشل میڈیا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ فائلیں کافی پہلے تیار کی گئی ہوں گی اور کئی دنوں بعد منظر عام پر آئیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم تیار کیے ہیں۔ بدلتی ہوئی دنیا میں ہمیں محتاط رہنا ہوگا، اور ایپسٹین فائلز صرف ایک موضوع ہیں۔ آپ نے پورا بازار امریکہ کے حوالے کر دیا ہے۔ ہم انہیں 500 ارب ڈالر کی منڈی دیں گے، اور ابھی چند دن پہلے ہم نے رافیل طیارے خریدے۔ تو پھر ’میک ان انڈیا‘ اور ’اسکل انڈیا‘ کا کیا ہوگا؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ اگر غیر ملکی منڈیوں پر انحصار بڑھتا رہا تو گھریلو مینوفیکچرنگ اور روزگار کے فروغ سے متعلق سرکاری اقدامات کمزور پڑ سکتے ہیں۔

ایپسٹین فائلز پر سیاسی ہنگامہ

اس سے قبل جمعہ کو انڈین یوتھ کانگریس نے جنتر منتر پر احتجاج کرتے ہوئے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے بھی پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس کے مکر دوار کے باہر مظاہرہ کیا۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ایسی مصدقہ معلومات ہیں جو امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلوں میں مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری اور انل امبانی کے نام سے متعلق ہیں۔ راہل گاندھی نے کہا: ’’میں نے کہا ہے کہ میں اپنے پاس موجود اعداد و شمار کی تصدیق کروں گا۔ محکمہ انصاف کی فائلوں میں ہردیپ پوری اور انیل امبانی کا نام موجود ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بھارت-امریکہ جوہری معاہدے کے معاملے پر وزیر اعظم مودی پر دباؤ تھا اور حکومت نے حساس معاملات کو مناسب طریقے سے نہیں سنبھالا۔

ہردیپ پوری کا جواب: الزامات بے بنیاد

راہل گاندھی کے الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے ہردیپ سنگھ پوری نے انہیں بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان میں محض ’’تفریحی عنصر‘‘ ہے۔ انہوں نے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کو بے بنیاد الزامات لگانے کی عادت ہے۔ انہوں نے کہا: ’’آج ایک نوجوان لیڈر (راہل گاندھی) نے پارلیمنٹ میں کچھ باتیں رکھیں، لیکن ان کی عادت ہے کہ بے بنیاد الزامات لگائیں۔ سیاسی نظام میں دو طرح کے رہنما ہوتے ہیں ایک وہ جو ذمہ داری سنبھالتے ہیں اور ملک کو آگے بڑھانے میں زندگی وقف کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو محض الزامات اور تماشہ آرائی کرتے ہیں۔‘‘ مرکزی وزیر نے طنزیہ انداز میں مزید کہا کہ راہل گاندھی کی باتوں میں ’’تفریحی پہلو‘‘ زیادہ ہوتا ہے۔  سیاسی حلقوں میں رافیل طیاروں کی خریداری، ’میک ان انڈیا‘ پالیسی اور ایپسٹین فائلز کے الزامات کو لے کر گرما گرمی تیز ہو گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

24 minutes ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

34 minutes ago