لکھنؤ: سماج وادی پارٹی کے صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی مجوزہ کابینہ توسیع پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب ریاستی حکومت نو برس کے دوران عوامی مسائل حل نہیں کرسکی تو اب آخری نو مہینوں میں نئے وزراء کیا کارنامہ انجام دیں گے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر بدعنوانی، بے روزگاری، مہنگائی اور عوامی استحصال کو فروغ دینے کا الزام بھی عائد کیا۔ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اتر پردیش کی عوام حکومت سے سوال پوچھ رہی ہے کہ جب کابینہ میں صرف چھ خالی جگہیں موجود ہیں تو پارٹی بدل کر آنے والے اتنے زیادہ اراکین اسمبلی کو کیسے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ شاید ان لوگوں میں سب سے کمزور رکن کو وزیر بنایا جائے تاکہ اس کی سیاسی کمزوری کچھ کم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ایک برادری کے متعدد اراکین اسمبلی میں سے صرف ایک کو وزارت دی جاتی ہے تو اس انتخاب کی بنیاد کیا ہوگی۔ اکھلیش کے مطابق اگر ایک شخص کو نوازا گیا تو باقی ناراض اراکین کا کیا ہوگا اور کیا انہیں نظر انداز کرکے خاموش کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں شامل ہونے والے کئی لیڈر اب خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کرسکتے ہیں کیونکہ پارٹی اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔
سماج وادی پارٹی سربراہ نے کہا کہ حکمراں جماعت کے اپنے ایسے کئی اراکین بھی ہیں جو طویل عرصے سے وزارت کے انتظار میں ہیں اور سیاسی بے یقینی کا شکار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر موجودہ وزراء کے محکمے کم کیے جاتے ہیں تو کیا اس سے عوام میں یہ پیغام نہیں جائے گا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں بہتر طریقے سے ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے وزراء اگلے انتخابات میں عوام کے سامنے کمزور ثابت ہوسکتے ہیں۔ اکھلیش یادو نے اتحادی جماعتوں کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اپنے اتحادیوں کو صرف وعدوں پر ٹال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن جماعتوں نے حکومت بنانے میں ساتھ دیا، اگر انہیں مناسب نمائندگی نہ ملی تو ان میں ناراضی پیدا ہونا فطری بات ہوگی۔ انہوں نے اپنے بیان میں طنزیہ اشعار کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جن کے سہارے حکومت بنی، وہی اب نظر انداز کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ ریاست کی عوام اب صرف اعلانات نہیں بلکہ حقیقی تبدیلی چاہتی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ نو برسوں میں عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی اور انتظامی زیادتیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اکھلیش نے دعویٰ کیا کہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف سیاسی توازن قائم رکھنے میں مصروف ہے، جبکہ عام آدمی آج بھی بنیادی سہولتوں اور روزگار کے لیے پریشان دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کابینہ توسیع کو آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاری سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ اپوزیشن مسلسل حکومت کو عوامی مسائل پر گھیر رہی ہے، جبکہ بی جے پی ناراض اراکین اور اتحادیوں کو ساتھ رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…