نئی دہلی : لداخ میں 24 ستمبر 2025 کو ہونے والے تشدد اور پولیس کارروائی کے ایک سال بعد بھی عدالتی جانچ کمیشن کی رپورٹ منظرعام پر نہ آنے پر سونم وانگچک نے سوال اٹھائے ہیں۔ اتوار کو پریس کلب آف انڈیا میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران وانگچک نے کہا کہ لداخ کے لوگ اب بھی اس رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں اور حکومت کو سچائی سامنے لانی چاہیے۔
این ایس اے کے تحت حراست کا ذکر
سونم وانگچک نے کہا کہ ’’27 ستمبر کے دن ہی میں گزشتہ سال جودھپور کی جیل میں جاگا تھا۔ آج کے دن معلوم ہوا کہ مجھے این ایس اے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ 26 ستمبر 2025 کو انہیں نیشنل سکیورٹی ایکٹ (NSA) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ تقریباً 6 ماہ بعد سپریم کورٹ میں ان کی حراست کو چیلنج کیے جانے کے دوران حکومت نے حراست کا حکم واپس لے لیا تھا۔
24 ستمبر کی کارروائی پر اٹھائے سوال
وانگچک نے کہا کہ 24 ستمبر 2025 کو لداخ میں ’’یوم شہدا‘‘ منایا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اس دن میڈیا بلیک آؤٹ جیسا ماحول تھا اور پی ٹی آئی، اے این آئی سمیت کئی میڈیا اداروں کی موجودگی نہیں تھی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا میڈیا کو کسی خبر کو دکھانے یا روکنے کے لیے کنٹرول کیا جا رہا ہے؟ وانگچک نے کہا، ’’میں پوچھنا چاہتا ہوں، کیا ایسی خبر دکھانے کے لیے میڈیا کو بلیک آؤٹ کیا جاتا ہے؟‘‘ انہوں نے میڈیا ہاؤسز کے سربراہوں سے بھی سوال کیا کہ لداخ کے ساتھ ایسا برتاؤ کیوں کیا جا رہا ہے۔لداخ کا موازنہ تبت سے کیے جانے والے اپنے سابقہ بیان پر وضاحت دیتے ہوئے وانگچک نے کہا کہ ان کا مقصد کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہ صرف 24 ستمبر کو پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔
عدالتی جانچ کی رپورٹ منظرعام پر لانے کا مطالبہ
وانگچک نے کہا کہ 24 ستمبر کے واقعے کے بعد حکومت نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس بی ایس چوہان کی سربراہی میں عدالتی جانچ کمیشن تشکیل دیا تھا۔ کمیشن کو واقعے کے حالات، پولیس کارروائی اور 4 افراد کی موت کی وجوہات کی جانچ کرنی تھی۔لداخ انتظامیہ کے مطابق کمیشن نے دسمبر 2025 تک انتظامیہ کے 22 گواہوں کے بیانات درج کیے تھے۔ مارچ 2026 میں جانچ دوبارہ شروع ہوئی اور مزید 18 انتظامی گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ انتظامیہ کے مطابق کمیشن کو 45 عوامی حلف نامے بھی موصول ہوئے تھے۔وانگچک نے سوال کیا، ’’حکومت نے Judicial Enquiry Commission تشکیل دیا تھا، اس کمیشن کی رپورٹ کیوں شیئر نہیں کی جا رہی؟ کیا ذمہ دار لوگوں کو بچایا جا رہا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ رپورٹ سامنے نہ آنے سے لوگوں کا اعتماد کم ہو رہا ہے۔
معاوضے کو لے کر بھی سوال
لداخ انتظامیہ نے ستمبر 2026 میں 4 ہلاک افراد کے اہل خانہ کو 15-15 لاکھ روپے، شدید زخمی 24 افراد کو 3-3 لاکھ روپے اور معمولی طور پر زخمی 20 افراد کو 1-1 لاکھ روپے دینے کی منظوری دی ہے۔ معاوضے کے پورے پیکیج کی رقم 1.52 کروڑ روپے ہے۔وانگچک نے اس معاوضے کو ناکافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’ہلاک افراد کے لیے 15 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 3، 2 یا 1 لاکھ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ لداخ میں تہواروں پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، لیکن شہیدوں اور معذور ہونے والے لوگوں کے لیے باعزت معاوضہ کیوں نہیں ہے؟‘‘انہوں نے کہا کہ کسی بھی رقم سے کسی کی جان واپس نہیں لائی جا سکتی، لیکن معاوضہ حکومت کی ذمہ داری اور متاثرہ خاندانوں کے تئیں احترام ظاہر کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔
NEET UG معاملے پر بھی سوال
وانگچک نے دعویٰ کیا کہ سی جے پی کا احتجاج ختم کراتے وقت حکومت کی جانب سے معاوضہ دینے کی بات تحریری طور پر کہی گئی تھی، لیکن 2 ماہ گزرنے کے باوجود اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے NEET سے متعلق متاثرہ خاندانوں کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کی مبینہ یقین دہانی پر بھی حکومت سے سوال کیا۔
’’میرے 6 ماہ کون واپس کرے گا؟‘‘
اپنی این ایس اے کے تحت حراست کا ذکر کرتے ہوئے وانگچک نے کہا کہ ان پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہونے کا الزام لگایا گیا اور انہیں جیل بھیج دیا گیا، لیکن 6 ماہ بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔انہوں نے سوال کیا، ’’اگر آپ کے پاس مناسب ثبوت تھے تو مجھے جیل میں کیوں ڈالا گیا اور پھر کیوں چھوڑ دیا گیا؟ میرے 6 ماہ کون واپس کرے گا؟‘‘وانگچک نے کہا کہ جن افسران نے ان کے خلاف اس طرح کے الزامات عائد کیے، ان کی جواب دہی طے ہونی چاہیے۔ انہوں نے وزارت داخلہ سے بھی اس معاملے میں وضاحت طلب کی۔
بڑی تعداد میں مقدمات درج ہونے پر اعتراض
وانگچک نے کہا کہ 24 ستمبر کے واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے گئے اور تشدد روکنے کی کوشش کرنے والوں پر بھی سنگین دفعات عائد کی گئیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ 80 سے زیادہ افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے اور کچھ لوگوں پر اقدام قتل جیسے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے۔ لداخ انتظامیہ نے حال ہی میں 20 افراد کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کی منظوری دی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق یہ فیصلہ امن، عوامی نظم و نسق اور سماجی ہم آہنگی کے وسیع تر مفاد میں لیا گیا ہے۔
ممبئی میں سی جے پی کے احتجاج کی حمایت
وانگچک نے 2 اکتوبر سے ممبئی میں ہونے والے سی جے پی کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا، ’’میں اس طرح کی تمام تحریکوں کی حمایت کروں گا، لیکن مجھے امید ہے کہ میری ضرورت نہ پڑے اور اس طرح کی تحریکیں آزادانہ طور پر کامیاب ہوں۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
مورخہ 27 ستمبر سے ہم ان کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کا آغاز کر…
ہاتھی ماحولیاتی نظام یعنی ایکو سسٹم کو صحت مند اور متوازن رکھنے میں اہم کردار…
کرکٹ کی دنیا میں کھلاڑیوں کی زندگی میدان کے اندر جتنی دلچسپ ہوتی ہے، میدان…
ترجمان کے مطابق بی ایل ایف کی قربان یونٹ نے بھی اس کارروائی میں کے…
ادرک کی چٹنی بنانے کے لیے چائے بنانے کے بعد بچی ہوئی ادرک سب سے…
وزیر اعظم نے گجرات کی ایک منفرد پہل کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا…