قومی

Our response must only be flowers: ’’ہمارا جواب صرف پھول ہونا چاہیے‘‘ سونم وانگچک نے جنتر منتر کے باہر تشدد کی اطلاعات کے درمیان کی مکمل امن کی اپیل

نئی دہلی: نیٹ یوجی پیپر لیک تنازع کے خلاف جنتر منتر پر جاری احتجاج کے 26ویں دن موسمیاتی کارکن سونم وانگچک نے جمعرات کو اپنے حامیوں سے پُراثر اپیل کرتے ہوئے عدم تشدد کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پرامن تحریک کو پٹری سے اتارنے کی کوشش کرنے والے بعض عناصر کے حوالے سے تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ وانگچک کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب احتجاج کے مرکزی مقام سے باہر بعض الگ تھلگ واقعات کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں مبینہ طور پر سماج دشمن عناصر نے تصادم کو ہوا دینے اور بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی۔

’اشتعال کے باوجود مکمل ضبط برقرار رکھیں‘

پرامن مزاحمت کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وانگچک نے اپنے حامیوں اور مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی یا بیرونی مداخلت کے باوجود مکمل ضبط کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’دن 26، امن اور صرف امن ہی میرا راستہ ہے… جنتر منتر پر احتجاج پرامن ہے، لیکن یہ جان کر مجھے دکھ ہوا کہ کہیں اور کچھ سماج دشمن عناصر پرامن احتجاج کا فائدہ اٹھا کر تشدد بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسرا فریق چاہے کچھ بھی کرے، ہمارا جواب صرف پھول ہونا چاہیے۔ براہ کرم اس روایت کو ہر قیمت پر برقرار رکھیں۔‘‘

گاندھیائی اصولوں پر قائم رہنے پر زور

وانگچک نے زور دیا کہ احتجاجی تحریک کی سالمیت مکمل طور پر گاندھیائی اصولوں اور امن پر قائم رہنے سے وابستہ ہے، تاکہ تحریک کے بنیادی مطالبات ہی اس کا مرکزی محور رہیں۔ ان کی یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل گڑگاؤں کے میدانتا اسپتال نے بتایا تھا کہ صفدرجنگ اسپتال سے منتقل کیے جانے کے بعد کارکن کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت مستحکم اور ہوش و حواس میں ہے۔ اسپتال کی جانب سے جاری طبی بیان کے مطابق وانگچک کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور ان کی اہم طبی علامات قابلِ قبول حدود میں ہیں۔ میدانتا اسپتال نے کہا ’’سونم وانگچک کا علاج گڑگاؤں کے میدانتا اسپتال میں ڈاکٹروں کی ایک کثیر شعبہ جاتی ٹیم کر رہی ہے۔ ان کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ مستحکم اور ہوش میں ہیں۔ ان کی اہم طبی علامات قابلِ قبول حدود میں ہیں۔ انہیں دیا جانے والا تمام علاج ان کی باخبر رضامندی کے مطابق ہے۔‘‘

طلبہ کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کا مطالبہ برقرار

جمعرات کو وانگچک نے ایک بار پھر کہا کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال اسی وقت ختم کریں گے جب مرکزی حکومت انہیں یقین دہانی کرائے گی کہ ’چلو سنسد‘ احتجاج میں شامل مظاہرین کے خلاف کوئی تعزیری یا انتقامی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ ایکس پر شیئر کیے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کارکن نے کہا کہ 25 روزہ بھوک ہڑتال کے دوران ان کا وزن 11 کلو گرام کم ہو گیا ہے، لیکن وہ اپنے مقصد کے لیے پرعزم ہیں۔ وانگچک نے کہا ’’میں اب بھی زندہ ہوں اور یہ میری بھوک ہڑتال کا 25واں دن ہے… میں ان طلبہ کی قدر کرتا ہوں جنہوں نے لاٹھی چارج کا سامنا کرنے کے باوجود پرامن طریقے سے احتجاج کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ وزرا اور اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کے باوجود وہ اس بات کی واضح یقین دہانی چاہتے ہیں کہ طلبہ کے خلاف ایف آئی آر یا کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا ’’میں حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ بچوں کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کیا جائے۔ میں اس بات کی یقین دہانی چاہتا ہوں کہ ایسے الزامات یا ایف آئی آر درج نہیں کی جائیں گی جن کے ذریعے انہیں پولیس یا جیل کی دھمکی دی جا سکے۔ اگر مجھے جلد یہ یقین دہانی مل جاتی ہے تو آپ کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے میں آج ہی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر سکتا ہوں۔ لیکن اگر ایسی یقین دہانی نہیں ملتی تو بدقسمتی سے مجھے اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھنی پڑے گی۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Indians in Germany: جرمنی میں ہندوستانیوں کی تعداد 4 لاکھ کے قریب، 70 ہزار طلبہ کر رہے ہیں اعلیٰ تعلیم حاصل

جرمنی میں ہندوستانی برادری کی موجودگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سستی تعلیم،…

1 hour ago

Manoj Bajpayee Raises A Question: منوج باجپائی کا سوال: جو لوگ سماج کے مسائل پر بات نہیں کرتے، انہیں اسٹار کا درجہ کیوں دیا جائے؟

ممبئی کے ’مکتی آڈیٹوریم‘ میں منعقدہ تقریب کے دوران اداکار منوج باجپائی نے فلمی ستاروں…

2 hours ago