قومی

Sohrabuddin Encounter Case: سہراب الدین انکاونٹر کے 22 ملزمین کو بری کرنے کے فیصلے کو بامبے ہائی کورٹ نے برقرار رکھا

ممبئی ہائی کورٹ نے 2005 کے سہراب الدین انکاؤنٹرکیس میں اہم فیصلہ سنایا ہے۔ سی بی آئی کورٹ کے 22 لوگوں کوبری کرنے کے فیصلے کوہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلہ برقراررکھا۔ چیف جسٹس چندرشیکھراورجسٹس گوتم انکھڈ پرمشتمل ڈویژن بینچ نے ملزم کوبری کئے جانے کے فیصلے کودرست ٹھہرایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سہراب الدین شیخ کے بھائیوں رباب الدین اورنایاب الدین کی جانب سے دائراپیلوں کو خارج کردیا۔

قابل ذکرہے کہ اس کیس کوملک میں سب سے زیادہ متنازعہ انکاؤنٹرسمجھا جاتا ہے۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ بامبے ہائی کورٹ نے ان کی اپیل کو خارج کر دیا ہے۔ تاہم، یہ ایک آپریٹوحکم ہے. برطرفی کی وجوہات تفصیلی حکم نامہ جاری ہونے کے بعد ہی معلوم ہوں گی۔ اس کیس کے حوالے سے سہراب الدین شیخ کو 2005 میں فرضی انکاؤنٹرمیں ماردیا گیا تھا۔

انکاونٹرمیں مارے گئے تلسی رام پرجاپتی

سہراب الدین کی اہلیہ کوثربی، کبھی ملی نہیں اوران کے ساتھی، تلسی رام پرجاپتی کوبھی بعد میں ایک انکاؤنٹرمیں ماردیا گیا تھا۔ وکیل نے کہا، “ہم آج سہراب الدین شیخ کے بھائی رباب الدین شیخ کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے، ہم ان سے بات کریں گے کہ آیا سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے، کیونکہ ان کے خاندان کوبھی گزشتہ برسوں میں بہت نقصان اٹھانا پڑا ہے۔”

سہراب الدین کے بھائیوں نے کی تھی اپیل

سہراب الدین شیخ کے بھائیوں نے اپنی اپیل میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے کومنسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ساتھ ہی متبادل کے طورپرضابطہ فوجداری، 1973 کی دفعہ 386 (اے) کے تحت نظرثانی کا حکم دینے کی کوشش کی۔ وہیں، بامبے ہائی کورٹ نے سہراب الدین شیخ، ان کی اہلیہ کوثربی اوران کے معاون تلسی رام پرجاپتی کے انکاونٹرمیں مارے جانے کے معاملے میں 21 پولیس اہلکاروں سمیت سبھی 22 ملزمین کوبری کئے جانے کو چیلنج دینے والی اپیلیں خارج کردیں۔

رباب الدین نے وزارت داخلہ کو بھی لکھا خط

ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے سے پہلے رباب الدین نے وزارت داخلہ، سی بی آئی اورکابینہ سکریٹری کوبھی خط لکھا تھا۔ اس میں حکومت سے فیصلے کوچیلنج دینے کی اپیل کی گئی تھی۔ اس درمیان سی بی آئی نے ہائی کورٹ میں کہا کہ اس نے فیصلے کوقبول کرلیا ہے۔ اپیل میں چیلنج دینے کا کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ یہ معاملہ 23 نومبر2005 کے حادثہ سے متعلق ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Judge’s son in a Mercedes released: جج صاحب کا مرسڈیز چلانے والا نابالغ بیٹا رہا، متوفی کے اہل خانہ نے پولیس پر اٹھائے سوال

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، کیرالا ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ…

23 minutes ago

Congress Protest at Ramlila Maidan: ’’مودی سے کہیے گیانیش کمار کو برطرف کریں، 30 سیکنڈ میں احتجاج ختم ہوجائے گا‘‘ دہلی کے تاجروں سے راہل گاندھی کی اپیل

راہل گاندھی نے انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات اور الیکشن کمیشن کے خلاف جاری احتجاج…

30 minutes ago

BRICS Parliamentary Forum: برکس پارلیمانی فورم کے افتتاحی اجلاس میں پہنچے وزیراعظم مودی، غیر ملکی وفود کا کیا استقبال

دو روزہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی میزبانی ہندوستانی پارلیمنٹ کررہی ہے۔ اس میں برکس…

1 hour ago

Rahul Gandhi Wins 2018 Defamation Case: راہل گاندھی 6 سال بعد ہتکِ عزت کے مقدمے میں کیسے ہوئے بری؟ یہ 2 نکات بنے اہم

سلطان پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں راہل گاندھی کارروائی شروع ہونے…

2 hours ago