نئی دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف 10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں ملک بھر کے نوجوانوں اور جمہوریت پسند شہریوں سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔ انڈین مسلمز فار سول رائٹس کے چیئرمین، 51 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمز کے قومی کنوینر اور سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب نے کہا کہ 10 اکتوبر کو مختلف سماجی اور جمہوری تنظیمیں آئین، جمہوریت اور شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے پرامن طور پر اپنی آواز بلند کریں گی۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں، بالخصوص اقلیتی برادریوں سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔ محمد ادیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی اور ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹوں سے مبینہ طور پر نام حذف کیے جانے کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں جمہوری اور آئینی طریقے سے اپنی آواز بلند کرنا ہر شہری کا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں کے حقوق اور ملک میں ان کا آئینی تحفظ بھارتی آئین اور جمہوری اداروں کی مضبوطی سے وابستہ ہے۔ اگر آئینی اداروں اور جمہوری نظام کو کمزور ہونے دیا گیا تو اس کا سب سے زیادہ اثر کمزور اور اقلیتی طبقات پر پڑے گا۔
تحریک کو سیاسی یا فرقہ وارانہ رنگ نہ دینے کی اپیل
سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ 10 اکتوبر کی تحریک کسی ایک برادری یا سیاسی جماعت کا معاملہ نہیں بلکہ آئین، منصفانہ انتخابات اور ہر شہری کے حقِ رائے دہی کے تحفظ سے متعلق ہے۔ انہوں نے شرکا سے مکمل صبر، تحمل اور عدم تشدد کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کو کسی بھی صورت تشدد، نفرت یا فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کامیاب نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ تحریک کو سیاسی یا فرقہ وارانہ رخ دینے کی کوشش ہو سکتی ہے، اس لیے تمام شرکا کو پرامن اور جمہوری حدود میں رہ کر اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ محمد ادیب نے کہا کہ نوجوانوں کی وسیع شرکت ملک میں جمہوری جدوجہد کو نئی قوت دے سکتی ہے اور مستقبل کی نئی جمہوری قیادت کے لیے راستہ ہموار کر سکتی ہے۔
ووٹر لسٹوں میں مبینہ تبدیلیوں کی آزادانہ جانچ کا مطالبہ
دریں اثنا، ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے قومی سکریٹری اور مانیٹرنگ کمیٹی کے کو کنوینر ندیم خان نے ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹوں سے مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر نام حذف کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بہار اور مغربی بنگال کے بعض اضلاع میں ووٹر لسٹوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ کیا اور نندی گرام میں مسلم ووٹروں کے نام مبینہ طور پر زیادہ تعداد میں حذف کیے جانے کے دعووں کی بھی تحقیقات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ میں شفافیت کسی ایک برادری کا نہیں بلکہ ہر شہری کے جمہوری حق اور انتخابی نظام کی ساکھ کا معاملہ ہے۔ ندیم خان نے بھی 10 اکتوبر کے احتجاج میں بالخصوص نوجوانوں سے پرامن شرکت کی اپیل کی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
سلیم انجینئر نے کہا کہ میڈیا کی ایسی رپورٹوں کو پڑھ کر بھی تشویش ہوتی…
21 جون 1950 کو ٹورنٹو میں پیدا ہونے والی اینی کارسن نے اپنے پورے ادبی…
انڈین فیسٹیول 2026: فلیپ کارٹ بگ بلین ڈیز اور ایمیزون گریٹ انڈین فیسٹیول سیل شروع…
سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے ایودھیا کے دو روزہ دورے کے دوران بھاگوت کتھا…
ہوائی سفر وقت کے ساتھ پہلے سے زیادہ محفوظ ہوا ہے، لیکن پائلٹ کی جانب…
وتھیا نے ایشین گیمز میں بھارت کے لیے ایک گولڈ، ایک سلور اور ایک برونز…