قومی

Pollution Board Action: تقریباً 20 برس سے زہریلا دھواں اُگلنے والی تریمولا انڈسٹریز پر بڑی کارروائی، فیکٹری بند کرنے اور بجلی منقطع کرنے کا حکم

مدھیہ پردیش کے ضلع سنگرولی میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے انتظامیہ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے میسرز تریمولا انڈسٹریز لمیٹڈ (اسپنج آئرن یونٹ) کی پیداواری سرگرمیاں فوری طور پر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ مدھیہ پردیش آلودگی کنٹرول بورڈ نے ماحولیاتی معیارات کی مسلسل خلاف ورزی اور فضائی آلودگی سے متعلق قوانین پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے فیکٹری کی بجلی بھی فوری طور پر منقطع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ کارروائی ضلع کلکٹر گورو بینل کی سفارش اور تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی۔

20 برس سے آلودگی سے پریشان تھے دیہاتی

برگواں تھانہ علاقے کے گاؤں گوندوالی میں واقع تریمولا اسپنج آئرن فیکٹری کے خلاف مقامی دیہاتی طویل عرصے سے احتجاج کر رہے تھے۔ ان کا الزام تھا کہ فیکٹری سے نکلنے والا سیاہ دھواں اور راکھ آس پاس کے دیہات کی فضا کو زہریلا بنا رہے ہیں۔ اس آلودگی کے باعث زرعی زمینیں متاثر ہوئیں، کئی کھیت بنجر ہو گئے اور بعض خاندانوں کو گاؤں چھوڑنے تک پر مجبور ہونا پڑا۔ اگرچہ کئی بار شکایات اور احتجاج ہوئے، مگر مؤثر کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

معائنے میں سامنے آئیں سنگین بے ضابطگیاں

مدھیہ پردیش آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق 15 جون 2026 کو صنعت کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ماحولیاتی خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ صنعتی انتظامیہ نے ان ہدایات پر عمل درآمد کا دعویٰ کیا، لیکن 9 جولائی 2026 کو علاقائی افسران کے معائنے میں یہ دعویٰ غلط ثابت ہوا۔ جانچ میں معلوم ہوا کہ الیکٹرو اسٹیٹک پریسیپیٹیٹر (ESP) اور ایئر کمپریسر درست طریقے سے کام نہیں کر رہے تھے، جس کے باعث چمنی سے گرد آلود دھواں خارج ہو رہا تھا۔ اس کے علاوہ آن لائن کنٹینیوئس ایمیشن مانیٹرنگ سسٹم (OCEMS) کا ڈیٹا بھی مشتبہ پایا گیا۔

فضائی معیار اور کچرے کے انتظام میں بھی لاپروائی

معائنے کے دوران فیکٹری احاطے میں PM-10 اور PM-2.5 کی سطح مقررہ حد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، جبکہ پاور پلانٹ کے قریب نصب فضائی معیار کا تجزیاتی آلہ بھی بند پایا گیا۔ مزید یہ کہ فیکٹری میں ماحولیاتی ماہرین کی کمی، ملازمین کی جانب سے حفاظتی کِٹ (PPE) استعمال نہ کرنا، آئرن ڈسٹ کو کھلے میں ذخیرہ کرنا اور خطرناک فضلے کو سائنسی طریقے سے تلف نہ کرنا بھی سامنے آیا۔

خامیاں دور ہونے تک فیکٹری بند رہے گی

آلودگی کنٹرول بورڈ نے واضح کیا ہے کہ صنعت کو دوبارہ کام شروع کرنے کی اجازت اسی وقت دی جائے گی، جب تمام ماحولیاتی خامیوں کو مکمل طور پر دور کر کے قانونی اور ماحولیاتی معیارات کی پابندی یقینی بنائی جائے گی۔

کلکٹر کا دوٹوک مؤقف

ضلع کلکٹر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورو بینل نے کہا کہ سنگرولی میں ماحولیات کا تحفظ اور عوامی صحت انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی صنعت ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرے گی، اس کے خلاف آئندہ بھی اسی طرح سخت اور قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی۔ ساتھ ہی متعلقہ محکموں کو احکامات پر فوری اور مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Uniform Civil Code: ’بھارت کو متحد رکھنے کے لیے یکساں سول کوڈ ضروری‘، قومی سیمینار میں جسٹس سنجے کرول اور ماہرین نے پیش کی اپنی رائے

’بھارت کلیکٹو فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے دارالحکومت دہلی میں ایک خصوصی سیمینار منعقد کیا گیا۔…

44 minutes ago

Shamim Nikhat Fiction Competition Results: شمیم نکہت افسانہ مقابلے کے نتائج کا اعلان، 8 اعلیٰ تعلیمی اداروں کے 12 طلبہ انعامات کے لیے منتخب

جیوری ممبران، پروفیسرریشماں پروین، ڈاکٹرعشرت ناہید، ڈاکٹرپروین شجاعت، ڈاکٹر شبنم رضوی اور ڈاکٹر موسیٰ رضا…

1 hour ago

Amit Shah Ambala Visit Plan: امت شاہ 5 نومبر کو انبالہ میں 800 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر شہید یادگار کا کریں گے افتتاح

1857 کی پہلی جنگِ آزادی کے شہیدوں کی یاد میں قائم ’آزادی کی پہلی لڑائی…

1 hour ago