قومی

Significant increase in tea exports from India: ہندوستان سے چائے کی برآمدات میں نمایاں اضافہ، گزشتہ مالی سال میں 852 ملین ڈالر کے مقابلے رواں مالی سال میں 900 ملین ڈالر کی چائے برآمد

کوئمبٹور میں ٹی بورڈ انڈیا کونور کے ایگزیکٹو ڈائرکٹر ایم متھوکمار نے پیر کے روز بتایا کہ خاص طور پر جنوبی ہندوستان کی چائے کے اعلیٰ معیار کی وجہ سے ہندوستان سے چائے کی برآمدات 2023-24 مالی سال میں 852 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2024-25 میں 900 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ ٹی بورڈ انڈیا-کونور اور سری رام کرشنا آرٹس اینڈ سائنس کالج، کوئمبٹور کے محکمہ کیٹرنگ اور ہوٹل مینجمنٹ نے مشترکہ طور پر پیر کو کالج کیمپس میں ’’ٹی کرافٹنگ 2k25‘‘ نامی تقریب کا اہتمام کیا تھا، جہاں یہ اعداد و شمار پیش کیے گئے۔

اس تقریب کے دوران آٹھ کالجوں کے طلباء نے عوام کے ساتھ مل کر چھ ٹیمیں تشکیل دیں اور صرف 30 منٹ کے اندر 300 اقسام کی چائے تیار کر لی۔ اس کے لیے انھیں ’’کلام ریکارڈ بک‘‘ میں بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اس تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کے بعد متھو کمار نے صحافیوں کو بتایا کہ ہندوستان نے 2024-25 مالی سال کے دوران وسط ایشیائی ممالک، روس اور یورپی ممالک کو تقریباً 250 ملین کلو گرام چائے برآمد کی، جس میں سے 100 ملین کلو گرام صرف جنوبی ہندوستان سے برآمد کیا گیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2023-24 میں ہندوستان نے 852 ملین ڈالر کی چائے برآمد کی تھی اور اب 2024-25 میں خاص طور پر جنوبی ہند کی چائے کے اعلیٰ معیار کی وجہ سے 900 ملین ڈالر کی برآمدات ہوئی ہیں۔

چائے کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے جاری ہیں حکومت کی کئی اسکیمیں

متھو کمار نے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’’اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم کیمیائی کھادوں کا استعمال بہت کم کرتے ہیں – بالکل نہ کے برابر۔ برآمدات کے میدان میں جنوبی ہندوستانی چائے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چائے کی برآمدات کے فروغ کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ بڑی اسٹیٹس اور بڑے کسانوں کی اپنی منڈیاں ہیں لیکن چائے کے چھوٹے کاشتکاروں کے پاس ایسی سہولت نہیں ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے مرکزی حکومت چائے پر توجہ مرکوز کرنے والی کسان پروڈیوسر تنظیموں (FPOs) کی تشکیل اور فروغ کے لیے ایک اسکیم نافذ کر رہی ہے۔ ان ایف پی اوز کا مقصد کسانوں کو بہتر منڈیوں تک رسائی، معیار کو بہتر بنانے اور براہ راست برآمد کے مواقع پیدا کرنے میں مدد کرنا ہے۔ انھوں نے مزید کہا ’’2024-25 مالی سال میں اوٹی اور والپرائی میں 177 ایف پی اوز قائم کیے گئے اور انھوں نے برآمدی معیار کی چائے تیار کرنے کی تربیت حاصل کی۔‘‘

چائے کے کاشتکاروں کو درپیش چیلنجز کے بارے میں بات کرتے ہوئے متھو کمار نے چائے کے کھیتوں میں مزدوروں کی کمی کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے انڈین ٹی بورڈ نے میکانائزیشن متعارف کرائی ہے، جس کے لیے تجارت اور صنعت کی مرکزی وزارت نے 30 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’ہم چھوٹے کسانوں کو مشینوں کے استعمال کی تربیت فراہم کر رہے ہیں تاکہ مزدوروں کی کمی کو پورا کرنے میں ان کی مدد کی جا سکے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

8 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

8 hours ago