نئی دہلی کے تاج پیلس ہوٹل، دربار ہال میں آج ایگری بزنس سمٹ 2025 کا آغاز ہوگیا، جس کا مرکزی موضوع “جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ معیار کے زرعی اِن پُٹس کے ذریعے زرعی جی ڈی پی کو تین گنا بڑھانا” تھا۔ اس سمٹ میں انڈسٹری لیڈرز، پالیسی سازوں، ماہرین اور کسانوں نے شرکت کی، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجیز کو فروغ دینا اور بھارتی زرعی نظام کو مزید پائیدار و منافع بخش بنانا ہے۔مرکزی وزیر زراعت و کسان بہبود شری شیو راج سنگھ چوہان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسان ہندوستانی معیشت کی روح ہیں اور ماں بھارت کی خدمت ’’وندے ماترم‘‘ کے جذبے سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کی اہم کامیابیوں کا ذکر کیا، جن میں 2014 سے گنے کی پیداوار میں 44 فیصد اضافہ، 3,300 موسمیاتی مزاحم بیجوں کی تیاری، اور بہتر بیج، میکانائزیشن اور ایم ایس پی اسکیم کے ذریعے مجموعی پیداوار میں 36 فیصد اضافہ شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ایک ہیکٹیئر سے کم زمین رکھنے والے چھوٹے کسانوں کے لیے مربوط زرعی ماڈل، ویلیو ایڈیشن، مچھلی اور لائیو اسٹاک کی جانب توسیع ناگزیر ہو چکی ہے۔ بائیو اِن پُٹس پر سخت نگرانی کے نتیجے میں 30 ہزار پروڈیوسرز کی تعداد گھٹ کر 8 ہزار رہ گئی ہے۔ وزیر نے متوازن کھادوں کے استعمال پر بھی زور دیا تاکہ مٹی کی زرخیزی برقرار رہے۔
نیتی آیوگ کے رکن ڈاکٹر رمیش چند نے کہا کہ ہندوستان میں زرعی محنت تو بہت ہے، مگر فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کی ضرورت مزید اہم ہو چکی ہے۔ انہوں نے چین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کسان باغبانوں کی طرح باریک بینی سے زمین کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور کھاد کے مؤثر استعمال سمیت متعدد طریقوں سے بہتر پیداوار حاصل کرتے ہیں۔ بھارت کو بھی اسی سمت میں ذہین، مؤثر اور سائنسی کاشتکاری اپنانا ہوگی۔
پی ایچ ڈی سی سی آئی کی ایگری بزنس کمیٹی کے چیئر ڈاکٹر آر جی اگروال نے کہا کہ بھارتی کسان ہمیشہ ملک کے لیے دیتے آئے ہیں، اب وقت ہے کہ ملک انہیں بہترین ٹیکنالوجی، معلومات اور معاونت فراہم کرے تاکہ ان کی آمدنی اور پیداوار میں اضافہ ہوسکے۔
دھنکا ایگری ٹیک لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر راہل دھنکا نے بتایا کہ ایف اے او کے مطابق بھارت دنیا میں ایگرو کیمیکلز کا سب سے کم استعمال کرنے والا ملک ہے، اگرچہ کچھ علاقوں میں غلط استعمال اب بھی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے ذمہ دارانہ زرعی کیمیکل استعمال، کھادوں میں احتیاط، اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو بڑھانے پر زور دیا۔
پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سی ای او ڈاکٹر رنجیت مہتانے کہا کہ بھارت میں ایگری بزنس تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ پردھان منتری دھن دھانیا کسان یوجنا کے 1.7 کروڑ مستفیدین، 15 ہزار قدرتی کھیتی کے کلسٹر، اور ڈیجیٹل ایگریکلچر مشن کے 2,817 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری نے اس شعبے کو نئی سمت دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے آئی مراکز، 38 ہزار ایم اے آئی ٹی آر آئیز، کم قیمت بائیو اِن پُٹس کی فراہمی، اور کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم جیسے اقدامات کسانوں کے لیے نئی آمدنی کے دروازے کھول رہے ہیں۔
سمٹ کا پہلا سیشن امید افزا نوٹ کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جہاں مقررین نے ٹیکنالوجی کے استعمال، اعلیٰ معیار کے اان پُٹس، اور پبلک،پرائیویٹ اشتراک کے ذریعے زرعی جی ڈی پی کو تین گنا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سمٹ نے بھارت کے ایگری بزنس ایکو سسٹم کے روشن مستقبل کا روڈ میپ پیش کیا، جس سے کسانوں، کاروباروں اور مجموعی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
قاضی توقیر سے گفتگو کے دوران گلّو نے اپنی زندگی کے اس مشکل دور کو…
۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے…
بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اسکیم نے علاج کے اخراجات میں ریکارڈ بچت کو…
امت شاہ نے ’’ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029‘‘ کو منشیات کے خطرے کے خلاف جنگ میں شامل…
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…