قومی

Sukhbir Singh Badal meet PM Modi: وزیراعظم مودی سے سکھبیر سنگھ بادل کی ملاقات، سیاسی گلیاروں میں اکالی دل کے دوبارہ اتحاد کے قیاس آرائیاں تیز

نئی دہلی: پنجاب میں 2027 میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں اور اس سے پہلے ہی ریاست کی سیاست میں نئی صف بندیاں شروع ہونے کے امکانات نظر آنے لگے ہیں۔ جمعہ کو شرومنی اکالی دل کے رہنما سکھبیر سنگھ بادل نے نئی دہلی میں وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں ہوئی۔ ملاقات میں کن امور پر تبادلۂ خیال ہوا، اس سلسلے میں دونوں فریقوں کی جانب سے فی الحال کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم اس ملاقات کے بعد قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں کہ 2027 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اور اکالی دل ایک بار پھر مل کر انتخابی میدان میں اتر سکتے ہیں۔ دوسری جانب وزیر اعظم مودی اور سکھبیر سنگھ بادل کی ملاقات پر دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے طنز کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا کہ کیا دونوں جماعتیں ایک بار پھر ساتھ آنے والی ہیں؟

پنجاب کی صورتحال پر بات چیت کا دعویٰ

ذرائع کے مطابق سکھبیر سنگھ بادل اور وزیر اعظم مودی کے درمیان پنجاب کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ سکھبیر بادل نے پنجاب میں بڑھتے ہوئے بدعنوانی کے معاملات کا مسئلہ بھی وزیر اعظم کے سامنے اٹھایا۔ اس ملاقات کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال تیزی سے گردش کرنے لگا ہے کہ کیا بی جے پی اور شرومنی اکالی دل ایک بار پھر اتحاد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں؟ حالانکہ پنجاب بی جے پی کے کئی رہنما گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ پارٹی 2027 کا اسمبلی انتخاب اپنے دم پر لڑے گی۔ ایسے میں مودی اور سکھبیر بادل کی ملاقات نے دونوں جماعتوں کے ممکنہ اتحاد کے قیاس کو مزید ہوا دے دی ہے۔

ڈھائی دہائیوں تک قائم رہی بی جے پی-اکالی دل کی دوستی

شرومنی اکالی دل کو بی جے پی کے قدیم ترین اتحادیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان تقریباً ڈھائی دہائیوں تک سیاسی اتحاد قائم رہا، لیکن 2020 میں تین زرعی قوانین کے معاملے پر دونوں کی راہیں الگ ہوگئیں۔ اس وقت مرکزی وزیر ہرسمرت کور بادل نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد دونوں جماعتوں نے پنجاب کی سیاست میں الگ الگ انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا۔ بی جے پی سے علیحدگی کے بعد شرومنی اکالی دل کو پنجاب میں وہ عوامی حمایت حاصل نہیں ہو سکی جس کی توقع بادل خاندان نے کی تھی۔ دوسری جانب بی جے پی بھی ریاست میں اب تک وہ سیاسی اثر و رسوخ قائم نہیں کر سکی جس کی اسے امید تھی۔ ایسے حالات میں دونوں جماعتوں کے دوبارہ ایک ساتھ آنے کے امکانات کی قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ تاہم فی الحال نہ بی جے پی اور نہ ہی اکالی دل کی جانب سے کسی ممکنہ اتحاد کے بارے میں باضابطہ اعلان کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Rahul Gandhi First Reaction After Detained: حراست سے رہائی کے بعد راہل گاندھی کا پہلا ردعمل، کہا-پارلیمنٹ، سڑک اور جنتر منتر پر مضبوطی سے ڈٹے ہیں‘

الیکشن کمیشن کے معاملے پر انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج دوسرے روز بھی…

1 minute ago

Smriti Mandhana: کپتانی ملنے کے بعد اسمرتی مندھانا کا ہرمن پریت کور کے نام پیغام، کہا- مل کر مزید کامیابیاں حاصل کریں گے

بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی نئی کپتان اسمرتی مندھانا نے سابق کپتان ہرمن پریت کور…

19 minutes ago

Ajit Agarkar Farewell: ’تاریخ آپ کے ساتھ زیادہ نرمی برتے گی‘، اگرکر کی رخصتی پر گمبھیر کے ایک جملے نے کھینچی توجہ

اجیت اگرکر: چیف سلیکٹر کے عہدے سے اجیت اگرکر کے ہٹنے کے بعد گوتم گمبھیر…

27 minutes ago

CM Hemant Soren Mother Passes Away: جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی والدہ روپی سورین کا انتقال، سیاسی حلقوں میں سوگ کی لہر

روپی سورین کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی جھارکھنڈ کے سیاسی اور سماجی حلقوں…

1 hour ago

Russia-Ukraine War: روس کا بڑا فضائی حملہ، کیف سمیت 12 علاقوں میں تباہی، 4 بچوں سمیت 19 افراد ہلاک

روس-یوکرین جنگ: روس نے بدھ کی صبح یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت کئی شہروں اور…

1 hour ago