نئی دہلی: کانگریس لیڈر ششی تھرور نے پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کے تبصرے کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک مبہم پیغام شیئر کیا: اُڑنے کی اجازت مت مانگو۔ پر تمہارے ہیں اور آسمان کسی کا نہیں۔ یہ پیغام اُس وقت سامنے آیا جب تھرور کی وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف پر کانگریس پارٹی میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ تھرور نے حالیہ مضمون میں مودی کو بین الاقوامی سطح پر بھارت کا ایک “اہم اثاثہ” قرار دیا تھا۔
کھڑگے کا سخت ردعمل ملک پہلے، مودی بعد میں
کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے ایک پریس کانفرنس میں تھرور کے مضمون پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے لیے ملک پہلے ہے، جبکہ کچھ افراد کے لیے شاید مودی پہلے اور پھر ملک آتا ہے۔ یہ بیان اندرا گاندھی کے دور اقتدار میں ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی کی برسی کے موقع پر دیا گیا ہے۔ کھڑگے نے مزید کہا: ششی تھرور انگریزی میں بہت ماہر ہیں، میں انگریزی ٹھیک سے نہیں پڑھ سکتا۔ ان کی زبان بہت عمدہ ہے، اسی لیے ہم نے انہیں کانگریس ورکنگ کمیٹی کا رکن بنایا۔
پہلگام حملہ اور اتحاد کا پیغام
کھڑگے نے پہلگام میں حالیہ دہشت گرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں 26 شہری جاں بحق ہوئے، کہا کہ حزب اختلاف مسلح افواج کی حمایت میں متحد ہے۔ انہوں نے کہا: ہم نے کہا ملک پہلے، پارٹی بعد میں۔ کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ مودی پہلے، ملک بعد میں۔ ہم کیا کر سکتے ہیں؟
کانگریس نے تھرور کے بیان سے بنائی دوری
رکن پارلیمنٹ ششیتھرور کے مضمون کے بعد کانگریس پارٹی نے ان کے خیالات سے خود کو علٰیحدہ کر لیا۔ پارٹی قیادت اس بات سے ناخوش ہے کہ تھرور نے پہلگام حملے جیسے حساس موقع پر سرکاری پالیسی پر سوال اٹھانے کے بجائے مودی کی تعریف کی، جو کہ کانگریس کے سرکاری مؤقف سے مختلف تھا۔
تھرور کی وضاحت: بی جے پی میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں
ماسکو میں ایک تقریب کے دوران تھرور نے واضح کیا کہ ان کا مضمون بی جے پی میں شامل ہونے کا اشارہ نہیں بلکہ قومی یکجہتی اور مفادِ عامہ کا مظہر تھا۔ انہوں نے کہا: یہ مضمون مودی کی پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان نہیں بلکہ بھارت کے اتحاد، قومی مفاد، اور ملک کے وقار کے دفاع کا بیان تھا۔
مضمون میں تھرور نے کیا کہا؟
تھرور نے پیر کو روزنامہ دی ہندو میں شائع ہونے والے مضمون میں لکھا تھا کہ وزیر اعظم مودی کی توانائی، حرکیّت اور بات چیت کی خواہش بھارت کے لیے عالمی سطح پر ایک اہم اثاثہ ہے اور یہ صفات مزید تعاون کی مستحق ہیں۔
انہوں نے “آپریشن سندور” کے بعد سفارتی اقدامات کو “قومی عزم اور مؤثر رابطے” کی مثال قرار دیا۔ یہ مضمون بعد ازاں وزیر اعظم کے دفتر (PMO) کی جانب سے بھی X پر شیئر کیا گیا۔
کانگریس کی خارجہ پالیسی پر تنقید، اور تھرور کا اختلاف
کانگریس پارٹی حالیہ عرصے میں مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سخت تنقید کر رہی ہے۔ اس کا مؤقف ہے کہ حکومت کی پالیسیوں نے بھارت کی سفارتی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے اور ملک کو عالمی سطح پر تنہا کر دیا ہے۔ ایسے میں تھرور کی جانب سے مودی کی تعریف کو پارٹی لائن سے ہٹ کر سمجھا گیا، جس نے اندرونی اختلافات کو ہوا دی۔
ششی تھرور کا مبہم پیغام اور ان کا مضمون اس وقت سامنے آیا ہے جب کانگریس خود کو ایک متحد حزب اختلاف کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم، تھرور نے بار بار واضح کیا ہے کہ ان کی مودی کی تعریف بی جے پی کی حمایت نہیں بلکہ قومی مفاد کی بنیاد پر تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کانگریس پارٹی اس اندرونی اختلاف کو کیسے سلجھاتی ہے اور کیا تھرور آئندہ بھی اسی آزاد رویے کا اظہار جاری رکھیں گے یا پارٹی لائن کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…