قومی

Shehzad Poonawalla Resigns BJP: شہزاد پونا والا کا بی جے پی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ، جانیں پارٹی اسے قبول کرنے کے لیے تیار کیوں نہیں؟

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان شہزاد پونا والا کے پارٹی چھوڑنے کے معاملے نے بھارتی سیاست میں زبردست ہلچل پیدا کر دی ہے۔ 30 جولائی 2026 کو دیے گئے اپنے پہلے استعفے کو بی جے پی کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد پونا والا نے اب دوبارہ پارٹی کے قومی صدر نتن نبین کو خط لکھ کر استعفیٰ منظور کرنے کی درخواست کی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بی جے پی ان کا استعفیٰ قبول کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دے رہی۔ پونا والا نے واضح طور پر لکھا ہے کہ وہ ’’نظام چھوڑ رہے ہیں، نظریہ اور شخصیت نہیں‘‘۔ ذاتی وجوہات اور مالی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے نجی شعبے میں جانے کا اعلان کرنے والے شہزاد کا استعفیٰ آخر بی جے پی کیوں روکے بیٹھی ہے؟ اس سوال پر اب سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

شہزاد پونا والا نے خط میں کیا لکھا؟

شہزاد پونا والا نے اپنے خط کے آغاز ہی میں بتایا کہ انہوں نے 30 جولائی کو بی جے پی کی بنیادی رکنیت اور ترجمان کے عہدے سے بلاشرط دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ تاہم، پارٹی نے ان کا خط قبول کرنے سے فوری طور پر انکار کر دیا اور ان سے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے کی درخواست کی۔ پونا والا نے لکھا کہ پارٹی کا یہ رویہ ان کے لیے انتہائی جذباتی تھا، لیکن طویل غور و فکر کے بعد اب وہ اپنے حتمی فیصلے پر قائم ہیں۔

پارٹی کے کچھ اندرونی چہروں پر شدید تنقید

اپنے دوسرے خط میں شہزاد پونا والا نے اشاروں کنایوں میں پارٹی کے بعض اندرونی چہروں پر شدید تنقید بھی کی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران ’’کچھ مخصوص افراد‘‘ کے رویے اور بعض واقعات نے انہیں اپنے پہلے فیصلے پر قائم رہنے پر مجبور کر دیا۔ تاہم، انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور بی ایل سنتوش جیسے پارٹی کے اہم لیڈروں کے لیے محبت، احترام اور تشکر کا اظہار کیا ہے۔

پارٹی چھوڑ رہے ہیں، لیکن نظریے سے وابستگی برقرار

شہزاد پونا والا نے پارٹی ترجمان کے طور پر اپنے سفر کو الوداع کہنے کی بنیادی وجہ ہنگامی نوعیت کے مالی اور ذاتی حالات کو قرار دیا ہے۔ پونا والا کے مطابق وہ اب نجی شعبے میں قدم رکھنے جا رہے ہیں، تاہم جہاں بھی ممکن ہوا، وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن اور بی جے پی کے نظریات کی حمایت کرتے رہیں گے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں لکھا: ’’میں پارٹی کا نظام چھوڑ رہا ہوں، لیکن نظریہ اور شخصیت (مودی جی) نہیں۔‘‘

بی جے پی استعفیٰ قبول کیوں نہیں کر رہی؟

سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ بی جے پی شہزاد پونا والا کو اتنی آسانی سے جانے دینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ شہزاد 2017 میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے اور بعد ازاں ٹی وی مباحثوں میں پارٹی کے ایک نمایاں، جارحانہ اور تیز طرار پسماندہ مسلم چہرے کے طور پر ابھرے۔ خود پونا والا نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ کسی دوسری سیاسی جماعت میں ایک غیر خاندانی پس منظر رکھنے والے پسماندہ مسلم رہنما کو اس نوعیت کا پلیٹ فارم ملنا ناممکن ہوتا۔ ایسے میں ٹی وی مباحثوں میں بی جے پی کی نمائندگی کرنے والے اس ’’فائر برانڈ‘‘ ترجمان کو کھونا پارٹی کے لیے ایک بڑا نقصان ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ بتائی جا رہی ہے کہ بی جے پی فی الحال ان کا استعفیٰ قبول کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abdul Awwal

Recent Posts

Torrential Rain Warning Issued for Uttarakhand: اتراکھنڈ میں موسلا دھار بارش کی وارننگ، چار دھام یاترا پر روک، کئی اضلاع میں ریڈ الرٹ

اتوار کے روز جھارکھنڈ میں بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ مدھیہ…

20 minutes ago

Ghulam Nabi Azad: سی ای سی گیانیش کمار پر غلام نبی آزاد کا بیان، اپوزیشن کا دوبارہ انتخابات کا مطالبہ غلط نہیں

غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر…

30 minutes ago

Russia support India in UN: بہت ہو چکے مغربی ممالک، روس نے اقوام متحدہ میں بھارت کی ویٹو پاور کی کردی حمایت

روس کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس…

1 hour ago

Ganga Expressway Fully Operational: گنگا ایکسپریس وے مکمل طور پر فعال، اناؤ میں ایک ریمپ کے علاوہ کہیں پانی جمع نہیں

موجودہ بارش معمول کی بارش نہیں ہے۔ شدید بارش کے باعث کئی مقامات پر عام…

2 hours ago

Flood situation continues to be grim in Odisha: اڈیشہ میں شدید بارش کے بعد سیلاب کا خطرہ، 70 ہزار سے زائد افراد محفوظ مقامات پر منتقل

اس دوران محصولات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے وزیر سریش پجاری نے بتایا کہ آبی ذخیرے…

3 hours ago