قومی

Setback for Sonia Gandhi: سونیا گاندھی کی مشکلات میں اضافہ، ووٹر لسٹ معاملے میں مجسٹریٹ کا حکم منسوخ، نظرثانی کے لیے عرضی منظور

نئی دہلی: کانگریس کی سینئر رہنما سونیا گاندھی کو ووٹر لسٹ میں نام شامل کیے جانے سے متعلق معاملے میں جھٹکا لگا ہے۔ دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے ان کے خلاف دائر شکایت کے معاملے میں نظرثانی کی عرضی منظور کرلی ہے۔ عدالت نے سابقہ مجسٹریٹ کے حکم کو منسوخ کرتے ہوئے شکایت کنندہ کو اضافی دستاویزات داخل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس معاملے کی سماعت کے لیے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ (اے سی جے ایم) ونود جوشی نے 18 نومبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ یہ شکایت سینئر وکیل وکاس ترپاٹھی نے دائر کی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ سونیا گاندھی کا نام 1980 میں ہی ووٹر لسٹ میں شامل کردیا گیا تھا، جب کہ انہیں ہندوستانی شہریت اپریل 1983 میں ملی تھی۔ شکایت کنندہ نے عدالت سے اضافی دستاویزات داخل کرنے کے لیے اجازت اور مزید وقت طلب کیا تھا۔ بدھ کے روز وکلا کی ہڑتال کے باعث اس معاملے کی سماعت نہیں ہوسکی تھی۔ اب عدالت نے شکایت کنندہ کو اضافی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دیتے ہوئے معاملے کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔

مجسٹریٹ کے حکم کو سیشن کورٹ نے کیا منسوخ

اس سے قبل ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ نے سونیا گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دینے سے انکار کردیا تھا۔ شکایت کنندہ وکاس ترپاٹھی نے اس حکم کو سیشن کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ 21 ستمبر کو ایم پی-ایم ایل اے مقدمات کی خصوصی عدالت کے جج وشال گوگنے نے وکاس ترپاٹھی کی نظرثانی عرضی منظور کرتے ہوئے مجسٹریٹ کے حکم کو منسوخ کردیا تھا۔ خصوصی جج نے کہا تھا کہ شکایت کو ایسے ریکارڈ کی فوٹو کاپی کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا، جس کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ عدالت کے مطابق مجسٹریٹ کا سابقہ حکم مناسب دلائل اور وجوہات کے بغیر جاری کیا گیا تھا، اس لیے اسے برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ سیشن کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ شہریت کے معاملے میں دائرہ اختیار سے متعلق مجسٹریٹ کی جانب سے کی گئی وضاحت غلط اور غیر مناسب تھی۔ سابقہ حکم میں اس بات کی بھی کوئی واضح دلیل نہیں دی گئی تھی کہ آیا شکایت میں کسی قابلِ دست اندازی پولیس جرم کا انکشاف ہوتا ہے یا نہیں۔ عدالت نے شہریت کے معاملے میں مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن سے متعلق مجسٹریٹ کے تبصروں کو بھی غیر مناسب قرار دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ قابلِ دست اندازی جرم کے انکشاف کے سوال پر سابقہ حکم غیر مؤثر ہے۔

1980 میں نام شامل، 1982 میں حذف اور 1983 میں دوبارہ درج کرنے کا دعویٰ

عدالت نے شکایت میں لگائے گئے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سونیا گاندھی کا نام مبینہ طور پر 1980 میں ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا، 1982 میں اسے حذف کردیا گیا اور پھر 1983 میں دوبارہ شامل کیا گیا۔ عدالت نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ووٹر لسٹ میں صرف ہندوستانی شہریوں کے نام شامل کیے جاسکتے ہیں۔ شکایت کنندہ کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کے مطابق سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں درج تھا اور ان کا رہائشی پتہ صفدرجنگ روڈ، نئی دہلی بتایا گیا تھا۔ سیشن کورٹ نے کہا تھا کہ جس حکم کو چیلنج کیا گیا، اس میں شکایت مسترد کرنے کی کوئی واضح وجہ درج نہیں تھی۔ اسی لیے اسے منسوخ کرکے معاملے کو دوبارہ سماعت کے لیے بھیجنا ضروری ہے۔ نظرثانی عدالت نے واضح کیا تھا کہ وہ خود مجسٹریٹ کی عدالت کا کردار ادا نہیں کرسکتی۔ اس لیے معاملے کو نئے سرے سے فیصلے کے لیے مجسٹریٹ کی عدالت میں واپس بھیجا گیا ہے۔ عدالت متعلقہ پولیس افسر سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کرے گی اور پولیس افسر کا موقف سننے کے بعد تفصیلی حکم جاری کیا جائے گا۔ شکایت کنندہ وکاس ترپاٹھی کا بنیادی الزام یہی ہے کہ سونیا گاندھی کا نام ہندوستانی شہری بننے سے پہلے ہی ووٹر لسٹ میں شامل کردیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

State Child Bravery Award: وزیرداخلہ امت شاہ اور وزیراعلیٰ دھامی نے اتراکھنڈ کے 6 بچوں کو ریاستی بہادری ایوارڈ سے نوازا

یہ ایوارڈ محکمہ خواتین کو بااختیار بنانے اور اطفال کی ترقی کی جانب سے مالی…

1 hour ago

CBSE 10th-12th Exam 2027 Date Sheet: سی بی ایس ای نے 10ویں اور 12ویں کے شیڈول کا کیا اعلان، 16 فروری سے امتحانات کا آغاز

سی بی ایس ای نے 10ویں اور12ویں بورڈ امتحان 2027 کی ڈیٹ شیٹ جاری کردی…

2 hours ago

دہلی، مہاراشٹر سمیت 7 ریاستوں میں ایس آئی آر سے متعلق الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ، جاری کئے نئے احکامات، یہاں پڑھیں پوری تفصیل

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے حکام کوسخت نگرانی برقراررکھنے کی بھی ہدایت…

2 hours ago