قومی

Bilalurrahman has passed away: مسلم راشٹریہ منچ کا جانباز سپاہی بلال الرحمٰن رخصت — ’جدوجہد اور بے لوث خدمت کی روشنی بجھ گئی‘

دہلی کی ٹھنڈی ہوتی رات میں اتوار کو ٹھیک 11:30 بجے ایک ایسی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی—وہ آواز جو مسلم راشٹریہ منچ کے ہر چھوٹے بڑے پروگرام میں توانائی، جوش اور مثبت فضاء پیدا کرتی تھی۔ منچ کے سینئر عہدیدار، اتراکھنڈ مدرسہ بورڈ کے سابق چیئرمین اور فکری ونگ ہندوستان فرسٹ ہندستانی بیسٹ کے بانی تصوراتی لیڈر بلال الرحمٰن اب اس دنیا میں نہیں رہے۔

قومی کنوینر اور میڈیا انچارج شاہد سعید نے کہا:

ان کے انتقال کا اعلان کرتے ہوئے قومی کنوینر اور میڈیا انچارج شاہد سعید نے کہا: ’’آج منچ نے ایک نہایت محنتی، دیانت دار اور بے لوث سپاہی کھو دیا ہے۔ بلال بھائی کا جانا ہمارے لیے ذاتی اور تنظیمی—دونوں سطحوں پر ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔‘‘ 19 اکتوبر کی رات اچانک برین ہیمرج ہونے کے بعد انہیں دہلی کے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ وہ مسلسل جدوجہد کرتے رہے، علاج کے ہر مرحلے سے گزرتے رہے، مگر ان کی حالت روز بروز بگڑتی گئی۔ آخرکار وہ گہری بے ہوشی اور طویل کوما سے باہر نہ آسکے۔

مثبت حب الوطنی اور سماجی ہم آہنگی کے حقیقی سفیر

منچ کے سرپرستِ اعلیٰ اندرَیش کُمار نے بھی سابق مدرسہ بورڈ چیئرمین کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلال نہ صرف مسلم راشٹریہ منچ کے ایک فعال اور قابلِ اعتماد ستون تھے بلکہ مثبت حب الوطنی اور سماجی ہم آہنگی کے حقیقی سفیر بھی تھے۔ انہوں نے بلال الرحمٰن کو ایک دیانت دار، بردبار اور وطن پرست کارکن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا انتقال منچ اور معاشرے—دونوں کے لیے ناقابلِ بدل نقصان ہے۔نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز کے قائم مقام چیئرمین نے کہا کہ محض 54 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو جانا گویا قبل از وقت ایک پہاڑ کا گر جانا ہے۔ ان کا انتقال ناقابلِ یقین اور دل دہلا دینے والا ہے۔

’بلال الرحمٰن ایک نڈر مجاہد تھے‘

جاملہ ہمدرد کے رجسٹرار کرنل طاہر نے کہا کہ بلال الرحمٰن ایک نڈر مجاہد تھے—خیالات کے بھی، تنظیم کے بھی اور سماجی خدمت کے بھی۔ ان کی آواز یہ مضبوط پیغام دیتی تھی کہ مسلم معاشرے کو خود اعتمادی، تعلیم، ترقی اور حب الوطنی کی راہ پر آگے بڑھنا چاہیے۔ پسماندگان میں ان کی اہلیہ، مسلم راشٹریہ منچ کی قومی کنوینر اور خواتین وِنگ کی سربراہ ڈاکٹر شالینی علی اور بچے شامل ہیں۔ یہ خسارہ صرف ایک خاندان کا نہیں، بلکہ ایک مکمل فکری تحریک کا ہے جس نے انہیں لیڈر، منصوبہ ساز اور شاندار حکمت کار کے طور پر دیکھا تھا۔

بیماری کے آغاز سے لے کر آخری لمحے تک حکومت اور منچ کی سینئر قیادت نے ہر ممکن کوشش کی۔ وزیرِ صحت جے پی نڈا، وزیرِ اقلیتی امور کرن رجیجو اور سرپرستِ اعلیٰ اندرَیش کمار مسلسل ان کی صحت کی نگرانی کرتے رہے اور بہترین علاج کی فراہمی کو یقینی بناتے رہے۔ ڈاکٹر شالینی نے بھی ان کی صحت یابی کے لیے دن رات ایک کردی، مگر تقدیر نے کچھ اور ہی فیصلہ کر رکھا تھا۔ بیس دن کے طویل کوما کے بعد بلال الرحمٰن انتقال کر گئے۔ منچ کے تمام سینئر و جونیر ارکان، کارکنان، رفقا اور ملک بھر سے وابستہ سماجی کارکنوں نے گہرے رنج اور عقیدت کے ساتھ خراجِ تحسین پیش کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

ICC Rankings: آئی سی سی رینکنگ: کیریئر کے تیسرے ہی ون ڈے میچ میں 5 وکٹیں، ویشنوِی شرما نے 53 مقام کی چھلانگ لگائی

ہندوستانی خاتون کرکٹ ٹیم کی نوجوان اسپنر ویشنوِی شرما نے آئی سی سی ویمنز ون…

1 hour ago

Parlay Missile Successful Test: پرلے میزائل کا کامیاب تجربہ، دورانِ پرواز راستہ بدلنے کی صلاحیت نے بڑھائی اہمیت

ڈی آر ڈی او کے تیار کردہ پرلے میزائل کا اڈیشہ کے چندی پور میں…

2 hours ago

Netan Yahu Crisis: اسرائیل میں نیتن یاہو کی کرسی پر خطرہ؟ عرب جماعتیں گادی آئزنکوٹ کی حمایت کے لیے تیار، لیکن رکھی بڑی شرط

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔…

3 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے مہابھارت کا خاص شلوک کیا شیئر، بتایا زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا منتر

تپسیا کا مطلب: اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا، مشکلات کا…

4 hours ago