نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سنسکرت کا ایک خوبصورت شلوک شیئر کیا۔ اس شلوک کے ذریعے انہوں نے خود شناسی، اندرونی طاقت اور حقیقی سکون کا پیغام دیا ہے۔ شلوک میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو اصل طاقت بیرونی وسائل سے نہیں بلکہ اپنے اندر پوشیدہ علم اور خود آگہی سے حاصل ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص اپنی حقیقی ذات کو پہچاننے لگتا ہے تو اس کی زندگی میں خود اعتمادی اور ذہنی سکون کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے اپنی پوسٹ میں سنسکرت کا یہ شلوک شیئر کیا ہے:
’’प्रतिबोधविदितं मतममृतत्वं हि विन्दते। आत्मना विन्दते वीर्यं विद्यया विन्दतेऽमृतम्॥‘‘
اس کا آسان مفہوم یہ ہے کہ جو شخص ہر تجربے اور شعور کے ذریعے حقیقتِ مطلقہ کو پہچان لیتا ہے، وہ ابدیت کے حصول کی جانب بڑھتا ہے۔ خود شناسی سے انسان کو حقیقی طاقت حاصل ہوتی ہے اور علم کے ذریعے وہ جہالت سے نکل کر ابدی سکون کا تجربہ کرتا ہے۔
کینوپنشد سے لیا گیا ہے یہ سنسکرت شلوک
وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیا گیا یہ شلوک کینوپنشد کے تیسرے حصے کے دوسرے باب کا چوتھا منتر ہے۔ کینوپنشد، سام وید کی اہم اپنشدوں میں سے ایک ہے، جس میں برہم یعنی حقیقتِ مطلقہ کی ماہیت کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ پرماتما یا برہم کو کسی عام شے کی طرح حواس کے ذریعے نہیں جانا جا سکتا۔اپنشد کے مطابق، برہم ہی وہ بنیادی قوت ہے جس کی وجہ سے انسان سوچتا، سمجھتا اور کسی چیز کا تجربہ کر پاتا ہے۔ یعنی ہمارے شعور کے پیچھے جو ابدی حقیقت موجود ہے، وہی برہم ہے۔ اسے بیرونی دنیا میں تلاش کرنے کے بجائے اپنے اندر موجود شعور کے ذریعے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
بیرونی نہیں، اندرونی طاقت ہی اصل قوت ہے
اس شلوک کا ایک اہم پیغام یہ بھی ہے کہ دولت، عہدے اور مادی آسائشوں سے حاصل ہونے والی طاقت ہمیشہ قائم نہیں رہتی۔ یہ تمام چیزیں وقت اور حالات کے ساتھ بدل سکتی ہیں، لیکن خود شناسی سے حاصل ہونے والی طاقت انسان کے اندر مستقل خود اعتمادی اور سمجھ بوجھ پیدا کرتی ہے۔جب انسان خود کو پہچانتا ہے اور اپنی حقیقی ذات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ زندگی کے مشکل حالات کا بہتر انداز میں سامنا کر پاتا ہے۔ اس کے اندر موجود خوف، الجھن اور تذبذب آہستہ آہستہ کم ہونے لگتے ہیں۔ یہی خود آگہی اسے ذہنی استحکام کی طرف لے جاتی ہے۔
جہالت سے نجات کا راستہ ہے خود شناسی
کینوپنشد میں اوِدیا یعنی جہالت کو انسان کی پابندیوں اور دکھوں کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ وہیں برہم ودیا اور خود شناسی کو اس جہالت سے نجات کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صرف کتابی معلومات حاصل کرنا ہی علم نہیں، بلکہ اپنے وجود اور شعور کو سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔اس شلوک کے ذریعے یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ حقیقتِ مطلقہ کو صرف بیرونی دنیا میں تلاش کرنے یا کتابوں میں پڑھنے سے پوری طرح نہیں جانا جا سکتا۔ اس کے لیے انسان کو اپنے تجربات، خیالات اور اندرونی شعور کو سمجھنا ہوگا۔ جب اسے اپنے اندر موجود اس ابدی حقیقت کا ادراک ہوتا ہے تو وہ جہالت اور دنیاوی بندھنوں سے اوپر اٹھنے کی سمت آگے بڑھتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
گریپ کا چوتھا مرحلہ آلودگی کی انتہائی سنگین صورت حال میں نافذ کیا جاتا ہے۔…
ٹرمپ کی جانب سے منتخب کیے گئے ریپبلکن امیدواروں کو ٹیکساس اور ساؤتھ کیرولائنا میں…
کمپنی کی جانب سے جون 2026 میں ختم ہونے والی سہ ماہی کے مالیاتی نتائج…
انڈین امریکن امپیکٹ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر چنتن پٹیل نے ایک بیان میں پیّا ڈانڈیا کی…
وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے پولیس کی مستعدی سے متعلق اہم اعداد و شمار پیش…
اتر پردیش حکومت میں وزیر اوم پرکاش راج بھر کو نشانہ بناتے ہوئے اکھلیش یادو…