ممبئی: بھارتی سرمایہ بازار کے نگران ادارے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (سیبی) نے شیئر بازار میں پانچ لسٹڈ کمپنیوں سے متعلق 144 کروڑ روپے کے مبینہ ’پمپ اینڈ ڈمپ‘ اسٹاک ہیرا پھیری گھوٹالے کا پردہ فاش کرتے ہوئے 221 اداروں کو سکیورٹیز مارکیٹ سے پابند کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً 144 کروڑ روپے کی مبینہ غیر قانونی آمدنی سود سمیت واپس جمع کرانے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ سیبی نے اپنے 394 صفحات پر مشتمل حتمی حکم نامے میں انفرادی سرمایہ کار حنیف شیخ کو اس پورے نیٹ ورک کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق یہ مبینہ گھوٹالا 2017 سے 2020 کے درمیان انجام دیا گیا، جس میں موریہ ادیوگ، 7NR ریٹیل، دارجلنگ روپ وے کمپنی، جی بی ایل انڈسٹریز اور وشال فیبرکس سمیت پانچ فہرست بند کمپنیوں کے شیئروں کی قیمتوں اور ٹریڈنگ حجم میں مصنوعی اضافہ کیا گیا۔ بعد ازاں ان شیئروں کو زیادہ قیمت پر عام سرمایہ کاروں کو فروخت کر کے بھاری منافع حاصل کیا گیا۔
200 سے زائد اداروں پر منظم ہیرا پھیری کا الزام
سیبی کے مطابق اس پورے آپریشن میں 200 سے زائد ادارے شامل تھے، جن میں ہر ایک نے منصوبہ بندی کے تحت مخصوص کردار ادا کیا۔ الزام ہے کہ باہمی طور پر منسلک ٹریڈروں نے سنکرونائزڈ اور سرکولر ٹریڈنگ کے ذریعے ان کمپنیوں کے شیئروں میں مصنوعی طلب پیدا کی، جس کے نتیجے میں شیئر کی قیمتوں اور ٹریڈنگ سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ جب شیئروں کی قیمت اور لیکویڈیٹی میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا تو اس نیٹ ورک نے بڑے پیمانے پر ایس ایم ایس مہم چلائی اور عام سرمایہ کاروں کو ان شیئروں کی خریداری کے لیے راغب کیا۔ سیبی کے مطابق ہزاروں سرمایہ کاروں کو ایسے سینڈر آئی ڈیز سے پیغامات بھیجے گئے جو معروف بروکریج کمپنیوں کے ناموں سے مشابہ تھے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار ان پر اعتماد کرتے ہوئے بڑی تعداد میں متعلقہ شیئر خریدنے لگے۔
غیر قانونی منافع کئی ذرائع سے منتقل کیا گیا
جیسے ہی عام سرمایہ کاروں کی خریداری بڑھی، نیٹ ورک سے وابستہ دیگر اداروں نے اپنے شیئر زیادہ قیمت پر فروخت کر کے بھاری منافع کمایا۔ تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس مبینہ غیر قانونی منافع کو مختلف کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور غیر ملکی زرِ مبادلہ کے کاروباریوں کے ذریعے کئی مرحلوں میں منتقل کیا گیا تاکہ آخرکار یہ رقم کمپنیوں کے پروموٹرز یا حنیف شیخ سے وابستہ اداروں تک پہنچ جائے اور اصل فائدہ اٹھانے والوں کی شناخت چھپائی جا سکے۔
حنیف شیخ پر 10 کروڑ روپے کا جرمانہ
سیبی نے اندازہ لگایا ہے کہ اس مبینہ گھوٹالے سے 143.79 کروڑ روپے کی غیر قانونی آمدنی حاصل کی گئی۔ تمام متعلقہ فریقوں کو اکتوبر 2020 سے 12 فیصد سالانہ سود کے ساتھ یہ رقم واپس جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کارروائی کے تحت حنیف شیخ کو سات برس کے لیے سکیورٹیز مارکیٹ سے خارج کر دیا گیا ہے اور ان پر 10 کروڑ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ ان سے وابستہ پانچ اداروں کو چھ برس کے لیے بازار سے پابند کیا گیا ہے اور ہر ایک پر دو کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملزم اداروں کو ان کے کردار کے مطابق پانچ برس تک کی پابندی اور پانچ لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سیبی نے بتایا کہ اس کی تحقیقات ٹریڈنگ ریکارڈ، بینک لین دین، موبائل فون ڈیٹا، واٹس ایپ چیٹس، ویب سائٹ رجسٹریشن کی تفصیلات اور ٹیلی کام کمپنیوں، ٹریول ایجنسیوں اور مالیاتی اداروں سے حاصل شدہ معلومات سمیت مختلف ڈیجیٹل اور مالیاتی شواہد پر مبنی تھیں۔ نگراں ادارے کے مطابق ان شواہد سے ایس ایم ایس مہم چلانے اور اس وسیع پیمانے پر شیئر ہیرا پھیری کے نیٹ ورک کو منظم کرنے میں حنیف شیخ کے کردار کی تصدیق ہوتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…
سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…