قومی

Supreme Court: بچوں کو انٹرنیٹ سے محروم کرنا درست نہیں، یہ بھی ان کا بنیادی حق ہے- سپریم کورٹ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر مکمل پابندی عائد کرنے کی مانگ پر اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انٹرنیٹ کا استعمال بنیادی حقوق سے جڑا ہوا ہے اور یہ حق بچوں کو بھی حاصل ہے۔ عدالت نے کہا کہ بچوں کو انٹرنیٹ سے مکمل طور پر محروم کرنا درست نہیں ہوگا۔ بچوں کی حفاظت اور ان کی آزادی ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں، بلکہ بچوں کو دونوں کا حق حاصل ہے۔عدالت نے سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن خدمات پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کی موجودگی پر تشویش ظاہر کرنے والی ایک عرضی پر سماعت کے دوران یہ باتیں کہیں۔ جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونود چندرن پر مشتمل بنچ نے ایسے مواد کی شناخت اور اسے ہٹانے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ہدایت دی۔

انٹرنیٹ کا استعمال بھی بنیادی حق

اپنے فیصلے میں ججوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 21 اور آرٹیکل 19(1)(a) کے تحت انٹرنیٹ کا استعمال بھی بنیادی حقوق سے جڑا ہوا ہے۔ بچوں کو انٹرنیٹ سے مکمل طور پر دور رکھنا ان کی حفاظت سے متعلق خدشات کا حل نہیں ہو سکتا۔عدالت کے مطابق، انٹرنیٹ پر بچوں کو کئی طرح کے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن ان خطرات کی موجودگی آن لائن پلیٹ فارمز کی ناکامی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ اس لیے بچوں کو انٹرنیٹ سے محروم کرنے کے بجائے ان کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔

پابندی سے بچوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ

سپریم کورٹ نے کہا کہ اگر بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر پابندی لگائی گئی تو اس کے منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ پابندی کے باوجود بچے انٹرنیٹ استعمال کر سکتے ہیں اور ایسے غیر منظم آن لائن پلیٹ فارمز تک پہنچ سکتے ہیں جہاں ان کے لیے خطرات زیادہ ہوں۔عدالت نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ پابندی کے باعث بچے آن لائن دھمکیوں یا استحصال کا سامنا کرنے پر اپنے والدین یا قابل اعتماد افراد کو اس بارے میں بتانے سے بھی ڈر سکتے ہیں۔بنچ نے کہا کہ انٹرنیٹ خیالات کے اظہار، تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار اور معلومات حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے کئی بچوں کے لیے یہ تعلیم اور معلومات تک رسائی کا واحد ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کو بھی انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے جیسے دوسرے لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کا موقع ملتا ہے۔

2020 اور 2025 کے فیصلوں کا بھی حوالہ

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں 2020 کے انورادھا بھسین اور 2025 کے پرگیہ پرسون مقدمات کا بھی حوالہ دیا۔ عدالت نے کہا کہ ان فیصلوں میں اظہار رائے کی آزادی اور ڈیجیٹل ذرائع تک رسائی کے حقوق کو تسلیم کیا گیا تھا۔عدالت کے تبصرے کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے انٹرنیٹ پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے ایسا نظام مضبوط کیا جانا چاہیے جو ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ انہیں معلومات، تعلیم اور اظہار رائے کے مواقع سے بھی محروم نہ کرے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Amit Shah Congratulates ABVP: اڈیشہ کے طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی کا دبدبہ، امت شاہ نے دی مبارک باد، 13 یونیورسٹیوں میں کامیابی

اڈیشہ کے طلبہ یونین انتخابات میں اے بی وی پی نے کئی یونیورسٹیوں میں اپنی…

23 seconds ago

World Cup 2027: ورلڈ کپ 2027 کے لیے بمراہ کی یہ کیسی تیاری؟ 2023 کے بعد اب تک کھیلے ہیں صرف 2 ون ڈے میچ

حال ہی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلی گئی گھریلو ون ڈے سیریز میں بھی…

4 minutes ago

Senior BJP leader Lal Krishna Advani: لال کرشن اڈوانی کی طبیعت اب کیسی ہے؟ اسپتال سے سامنے آیا ہیلتھ اپ ڈیٹ

لال کرشن اڈوانی ملک کے سینئر سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا سیاسی…

2 hours ago

Tragic incident in Greater Noida, Uttar Pradesh: گریٹر نوئیڈا میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی مشتبہ موت، علاقے میں سنسنی

یہ دردناک واقعہ گریٹر نوئیڈا کے ربوپورہ تھانہ علاقے کے تحت آنے والے گاؤں نگلا…

3 hours ago

From Clay To Consciousness: مٹی سے شعور تک، قدیم ہندوستانی مذہبی متون کی روشنی میں دیوی درگا کی مورتی کا مفہوم

مہا سپتمی کے موقع پر عقیدت مند نو پودوں کے مجموعے، نوپتریکا، کو نصب کرتے…

4 hours ago