قومی

Delhi’s 135-year-old ‘Central Secretariat Library: 135 سال پرانی سنٹرل سیکریٹریٹ لائبریری ہٹانے کی تیاری؟ سپریم کورٹ نے لیا ازخود نوٹس

نئی دہلی : دہلی کی 135 سال پرانی ’سنٹرل سیکریٹریٹ لائبریری‘ کو موجودہ عمارت سے منتقل کرنے کی منصوبہ بندی پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیا ہے۔ پیر کو جسٹس سنجے کمار اور جسٹس سنجیو سچدیوا کی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ بتایا گیا ہے کہ سینٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت تعمیر ہونے والے نئے سرکاری ڈھانچے میں لائبریری کے لیے جگہ سے متعلق سوالات اٹھے ہیں۔ لائبریری میں موجود تقریباً 8.5 لاکھ نایاب کتابوں اور تاریخی دستاویزات کے تحفظ کو اہم قرار دیتے ہوئے عدالت نے معاملے کا ازخود نوٹس لیا ہے۔

1891 سے جڑی ہے لائبریری کی تاریخ

سنٹرل سیکریٹریٹ لائبریری کی تاریخ 1891 سے جڑی ہوئی ہے۔ اسے ابتدا میں ’امپیریل سیکریٹریٹ لائبریری‘ کے نام سے شروع کیا گیا تھا۔ 1911 میں برطانوی ہندوستان کا دارالحکومت کلکتہ سے دہلی منتقل ہونے کے بعد لائبریری بھی دہلی آگئی۔فی الحال یہ لائبریری شاستری بھون میں واقع ہے۔ یہاں 8.5 لاکھ سے زیادہ کتابیں، نایاب مطبوعات، سرکاری ریکارڈ اور گزٹ موجود ہیں۔ اتنے بڑے ذخیرے کی وجہ سے اسے صرف کتابوں کا مرکز نہیں بلکہ ملک کے انتظامی اور تاریخی ریکارڈ کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

سینٹرل وسٹا میں جگہ کو لے کر کیا تنازع تھا؟

سینٹرل وسٹا منصوبے کے تحت شاستری بھون کو ہٹا کر نئے سرکاری ڈھانچے کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ اسی وجہ سے سنٹرل سیکریٹریٹ لائبریری کو بھی موجودہ عمارت سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی تیاری کی گئی۔اس دوران یہ سوال اٹھا کہ نئے منصوبے میں لائبریری کے لیے مناسب جگہ موجود ہے یا نہیں اور اس کے نایاب ذخیرے کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری انتظامات کیے گئے ہیں یا نہیں۔ حکومت نے اب اس معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کی ہے۔ مرکزی وزارت برائے ہاؤسنگ و شہری امور نے 2 اکتوبر کو کہا کہ ’کرتویہ پتھ‘ کی ازسرنو ترقی کے منصوبے میں سنٹرل سیکریٹریٹ لائبریری کے لیے جگہ فراہم کی گئی ہے اور اس کی تعمیر سے متعلق ضروری کارروائی جاری ہے۔

کیوں اہم ہے یہ لائبریری؟

لائبریری کے ذخیرے میں نایاب کتابوں کے علاوہ اہم سرکاری دستاویزات، پرانے ریکارڈ اور گزٹ بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دوسری جگہ منتقل کرتے وقت کتابوں اور تاریخی دستاویزات کے تحفظ کا معاملہ انتہائی اہم بن جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے تاریخی ذخیرے کو منتقل کرتے وقت مکمل ریکارڈنگ، مناسب تحفظ، درجہ حرارت اور نمی کو کنٹرول کرنے کے انتظامات کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹائزیشن بھی ضروری ہے۔ سپریم کورٹ کی سماعت میں اب لائبریری کی منتقلی اور اس کے تاریخی و نایاب ذخیرے کے تحفظ سے متعلق مختلف پہلوؤں پر غور کیا جائے  گا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

INDIA Alliance Mega Rally: ایس آئی آر کے معاملے پر سنجے دت نے کھولا محاذ، یکم نومبر کو دہلی میں ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ ریلی

کانگریس کے ہریانہ انچارج نے الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور بیلٹ پیپر کے…

1 hour ago

India vs New Zealand: تلک ورما بنے ٹیم انڈیا کے ہیرو، بھارت نے پھر کیا کمال، نیوزی لینڈ کو ہرا کر سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل

کرائسٹ چرچ میں کھیلے گئے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھارت نے نیوزی لینڈ کو…

1 hour ago

Delhi School Incident: دہلی کے اسکول میں دردناک واقعہ، بارہویں جماعت کی طالبہ نے اسکول کیمپس میں لگائی آگ، موقع پر ہی موت

دہلی کے کرشنا نگر میں واقع سروودیہ بال ایوم بالیکا ودیالیہ میں بارہویں جماعت کی…

2 hours ago

Priti Adani Calls For Skilled Talent: بھارت کے سیمی کنڈکٹر مشن کو مضبوط بنانے کے لیے ہنرمند افرادی قوت ضروری: پریتی اڈانی

اڈانی یونیورسٹی کی صدر نے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان اشتراک بڑھانے پر زور…

2 hours ago